سلسلہ احمدیہ — Page 208
۲۰۸ مہماں جو کر کے الفت آئے بصد محبت دل کو ہوئی ہے فرحت اور جاں کو میری راحت پر دل کو پہنچے غم جب یاد آئے وقت رخصت یہ روز کر مبارک سبحان من برانی دنیا بھی اک سرا ہے بچھڑے گا جو ملا ہے گر سو برس رہا ہے آخر کو پھر جدا ہے شکوہ کی کچھ نہیں جا یہ گھر ہی بے بقا ہے یہ روز کر مبارک سبحان من برانی اے اوائل میں آپ کا قاعدہ تھا کہ آپ اپنے دوستوں اور مہمانوں کے ساتھ مل کر مکان کے مردانہ حصہ میں کھانا تناول فرمایا کرتے تھے اور یہ مجلس اس بے تکلفی کی ہوتی تھی اور ہر قسم کے موضوع پر ایسے غیر رسمی رنگ میں گفتگو کا سلسلہ رہتا تھا کہ گو یا ظاہری کھانے کے ساتھ علمی اور روحانی کھانے کا بھی دسترخوان بچھ جاتا تھا۔ان موقعوں پر آپ ہر مہمان کا خود ذاتی طور پر خیال رکھتے اور اس بات کی نگرانی فرماتے کہ ہر شخص کے سامنے دستر خوان کی ہر چیز پہنچ جاوے۔عموماً ہر مہمان کے متعلق خود دریافت فرماتے تھے کہ اسے کسی خاص چیز مثلاً دودھ یا چائے یا پان وغیرہ کی عادت تو نہیں اور پھر حتی الوسع ہر اک کے لئے اس کی عادت کے مطابق چیز مہیا فرماتے۔جب کوئی خاص دوست قادیان سے واپس جانے لگتا تو آپ عموماً اس کی مشایعت کے لئے ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو میل تک اس کے ساتھ جاتے اور بڑی محبت اور عزت کے ساتھ رخصت کر کے واپس آتے تھے۔آپ کو یہ بھی خواہش رہتی تھی کہ جو دوست قادیان میں آئیں وہ حتی الوسع آپ کے پاس آپ کے مکان کے ایک حصہ میں ہی قیام کریں اور فرمایا کرتے تھے کہ زندگی کا اعتبار نہیں جتنا عرصہ پاس رہنے کا موقعہ مل سکے غنیمت سمجھنا چاہئے۔اس طرح آپ کے مکان کا ہر حصہ گویا ایک مستقل مہمان خانہ بن گیا تھا اور کمرہ کمرہ مہمانوں میں بٹا رہتا تھا مگر جگہ کی تنگی کے باوجود آپ اس طرح دوستوں کے ساتھ مل کر رہنے میں انتہائی راحت پاتے تھے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ معززین جو آجکل بڑے بڑے وسیع مکانوں اور کوٹھیوں میں رہ کر بھی تنگی محسوس کرتے ہیں حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں ایک ایک کمرہ میں سمٹے ہوئے رہتے تھے اور اسی میں خوشی پاتے تھے۔در تشین اردو ( محمود کی آمین ، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۲۳)