سلسلہ احمدیہ — Page 148
۱۴۸ یعنی تیرا وقت آن پہنچا ہے اور ہم تیرے واسطے روشن نشان باقی رکھیں گے۔ہے۔اسی طرح اور بھی بہت سے الہامات ہوئے جن سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ اب آپ کی وفات کا وقت بالکل قریب آ گیا ہے۔اس پر آپ نے الوصیت نام کے ماتحت ایک وصیت لکھ کر شائع فرمائی اور اس میں ان سارے الہامات کو درج کر کے اس بات کو ظاہر کیا کہ اب میری وفات کا وقت قریب ہے اور آپ نے اپنی تعلیم کا خلاصہ بیان کر کے جماعت کو نصیحت فرمائی کہ وہ آپ کے بعد آپ کی دلائی ہوئی تعلیم پر قائم رہے اور درمیانی ابتلاؤں سے نہ ڈرے کیونکہ ابتلاؤں کا آنا بھی سنت اللہ کے ماتحت ضروری ہوتا ہے اور آپ نے لکھا کہ نبی کا کام صرف تخم ریزی تک محدود ہوتا ہے۔پس میرے ذریعہ سے یہ تخم ریزی ہو چکی ہے اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر اک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔آپ نے یہ بھی لکھا کہ بسا اوقات ایک نبی کی وفات ایسے وقت میں ہوتی ہے جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے اندر رکھتا ہے اور مخالف لوگ ہنسی اور ٹھٹھا اور طعن و تشنیع سے کام لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بس اب یہ سلسلہ مٹ گیا۔اور بعض کمزور مومن بھی ڈگمگانے لگتے ہیں۔تب خدا اپنی دوسری قدرت کو ظاہر فرماتا ہے اور خلفاء کے ذریعہ بظاہر گرتی ہوئی عمارت کو سنبھال کر اپنی طاقت اور نصرت کا ثبوت دیتا ہے اور دشمن کی خوشی خاک میں مل جاتی ہے۔چنانچہ آپ الوصیت میں تحریر فرماتے ہیں کہ:۔یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہے ہمیشہ اس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے۔۔۔اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اس کی تخم ریزی انہی کے ہاتھ سے کر دیتا ہے۔لیکن اس کی پوری تکمیل ان کے ہاتھ سے نہیں کرتا۔بلکہ ایسے وقت میں ان کو وفات دے کر جو بظاہر ایک نا کامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے اور طعن اور تشنیع کا موقع دے دیتا ہے اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے