سلسلہ احمدیہ — Page 113
بار ہا حضرت مسیح ناصری سے ملاقات کی ہے اور ایک دفعہ ان کے ساتھ مل کر کھانا بھی کھایا ہے اور ہر دفعہ انہیں نہایت فروتن اور منکسر المزاج پایا ہے اور ان کے منہ سے یہ اقرار سنا ہے کہ میں تو خدا کا ایک عاجز بندہ ہوں۔الغرض حضرت مسیح موعود کے دل میں یہ بڑی خواہش تھی کہ دنیا سے شرک اور مردہ پرستی مٹ جائے اور اس کی جگہ حقیقی تو حید اور خدا پر ستی قائم ہو جائے اور آپ کے دل میں یہ سخت قلق رہتا تھا کہ باوجود اس کے کہ حضرت مسیح ناصری میں قطعاً کوئی خدائی علامت نہیں پائی جاتی بلکہ بطور ایک رسول کے بھی انہیں اپنی زندگی میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی انہیں بعد میں آنے والوں نے الوہیت کے تخت پر بٹھا رکھا ہے اور آپ اس تحریف کا اصل بانی مبانی پولوس کو خیال کرتے تھے جس نے مسیحی مذہب میں داخل ہو کر اس کا رنگ بدل دیا اور ایک کمزور انسان کو خدا بنانے کی بھاری ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے لی اور پھر بعد میں آنے والوں نے اس خیال کو اور پختہ کر دیا۔مگر آپ فرماتے تھے کہ اب آسمان پر اس شرک عظیم کے خلاف بہت جوش ہے اور میری بعثت اسی آسمانی حرکت کا نتیجہ ہے اور وہ وقت قریب آگیا ہے کہ صلیبی طلسم ٹوٹ جائے گا اور دنیا پھر بڑے زور کے ساتھ تو حید اور خدا پرستی کی طرف لوٹے گی۔آپ نے فرمایا کہ ہم تو صرف ایک آلہ ہیں ورنہ اصل جنگ خدا کی ہے جس کی غیبی فوجیں شیطانی خیالات کو مٹانے کے لئے حرکت میں ہیں۔لیکن ہمارا فرض ہے کہ اس آسمانی حرکت کے مطابق ظاہر میں بھی ایک حرکت پیدار کھیں اور ان اسباب کو کام میں لائیں جو خدا نے اپنے فضل۔ہمارے ہاتھ میں دیئے ہیں۔چنانچہ آپ نے اوائل دعوی سے لے کر برا براپنی زبان اور اپنی قلم کو تو حید کے قیام کے لئے حرکت میں رکھا اور اشتہاروں سے ، کتابوں سے ،مناظروں سے ،تقریروں سے شرک کے قلعہ پر مسلسل گولہ باری کی۔اور بارہا یہ اعلان کیا کہ مسیحیوں یا دیگر مذاہب والوں میں سے جسے اسلام کی صداقت کے متعلق شک ہو یا وہ اپنے مذہب کو اسلام کے مقابل پر حق خیال کرتا ہو تو وہ ہمارے سامنے آکر منقولی اور عقلی دلائل کے ساتھ یا روحانی مقابلہ کے رنگ میں زور آزمائی کرلے۔آپ نے یہ بھی اشتہار دیا کہ چونکہ خدا نے مجھے ساری دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث کیا ہے اور اس الله