سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 109 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 109

1+9 اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے۔میری نبوت اور رسالت باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے نہ میرے نفس کے رو سے۔اور یہ نام بحیثیت فنافی الرسول مجھے ملا۔الہذا خاتم النبین کے مفہوم میں فرق نہ آیا۔۔یہ تمام فیوض بلا واسطہ میرے پر نہیں ہیں بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے جس کا روحانی افاضہ میرے شامل حال ہے یعنی محمد مصطفی ہے۔اس واسطہ کو حوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس کے نام محمد اور احمد سے مسٹمی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔‘1 اس کے بعد آپ نے اپنی تحریرات میں اپنے اس دعوی کے متعلق مزید تصریحات بھی فرما ئیں مثلاً اپنی تصنیف حقیقۃ الوحی میں آپ فرماتے ہیں:۔صلى الله اس امت میں آنحضرت ﷺ کی پیروی کی برکت سے ہزار ہا اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔۔میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے۔خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت کے افاضہ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جز کی فضیلت قرار دیتا تھا۔مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور دوسرے پہلو سے امتی۔اس حصہ کثیر وحی الہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ا تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ ۱۳ تا ۱۹۔اشتہار ایک غلطی کا ازالہ مورخہ ۵ /نومبر ۱۹۰۱ء