صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 78 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 78

صفات باری تعالى يعنى الأسماء الحسنى کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ملك الناس جس میں خصوصیت پائی جاتی ہے۔۹۹۔مَلِیک ZA اس صفت کے بعض اشتقاق جیسے مَالِكَ الْمُلْكِ، مَلَكُوت وغیرہ سب قریب قریب ایک ہی مفہوم رکھتے ہیں۔قرآن کریم میں ان کا استعمال اس بار یک فرق کو ظاہر کرتا ہے جوان کے معنے اور مفہوم میں پایا جاتا ہے۔ملیک قرآن کریم میں صرف ایک بار استعمال ہوا ہے۔فرمایا: فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ - القمر : ۵۲) ۱۰۰ _ مَالِكَ الْمُلْكِ فرمایا: قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ ملک کا مالک جسے چاہے ملک عطا کرے ١٠١ _ مَلَكُوت (آل عمران: ۲۷) بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ کے رنگ میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت بیان کی گئی ہے اور یہ صفت مالکیت کی ایک شان ہے۔فرمایا: فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (يس: ۸۴) یعنی پاک ذات وہ ہے جس کے ہاتھ میں حکومت ہے ہر شے کی اور اس کی طرف ہی تم لوٹائے جاؤ گے۔یہ اسم سورہ مومن میں بھی ایسے ہی استعمال ہوا ہے کہ ید کا لفظ ساتھ ہے اور ید خدا تعالیٰ کی قوت پر دلالت کرتا ہے۔