صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 38 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 38

یعنی الأسماء الحسنى ۲۸۔ذُوالطَّول ۳۸ بڑے مقدور والا اور صاحب خیر کثیر۔سورہ مومن کے شروع میں یہ اسم آیا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی ذات ہی ہے جس کے پھیلاؤ کا احاطہ ممکن نہیں۔اس نے اپنے پیارے نبی سی لیا کہ ہم کو بھی صاحب خیر کثیر اس صفت کے مظہر کے طور پر بنادیا جنہیں صاحب کو ثر فرمایا گیا ہے۔جس کے ذریعہ اس ذات بابرکات کا فیض اس دنیا میں بھی جاری ہے اور اگلی دنیا میں بھی جاری رہے گا۔جیسا کہ فرمایا ہے: انا اعطينكَ الْكَوْثَرَ - (الكوثر : ٢) ٢٩_ ذُو الْمَعَارِجُ ہر قسم کی بلندیوں کا مالک۔یہ اسم سورہ معارج میں آیا ہے۔یوں تو بلندی و پستی اس کی تخلیق ہے مگر بلندیوں کو تو اس نے مومنوں کے مقدر میں کر دیا ہے۔چنانچہ اس نے مظہر کامل حضرت محمد مصطفی سلام ایم کو روحانی رفعتوں کی معراج پر پہنچا دیا۔آپ کے فیض سے ہی مومن بھی تمام رفعتوں کے لائق ٹھہرتے ہیں۔جو بھی اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑ کر آگے بڑھنا چاہے وہ عرب کے بادیہ نشیں تھے یا قادیان کے گمنام ہر طرح کی رفعتوں کے وارث بن گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: میں تھا غریب و بے کس و گمنام و بے ہنر کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیان کدھر اب دیکھتے ہو کیسا رجوع جہاں ہوا اک مرجع خواص یہی قادیان ہوا اک زمانہ تھا کہ میرا نام بھی مستور تھا قادیان بھی تھی نہاں ایسی کہ گویا ز یر غار