صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 37 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 37

یعنی الأسماء الحسنى ۳۷ وہ فقر کو غنی کی حالت سے تبدیل کر دیتا ہے اور یہ اس کے فضل سے ہوتا ہے اور یہ بھی اس کی ربوبیت ہے کہ گرے ہوؤں کو اٹھاتا ہے۔چھوٹوں کو بڑا کرتا ہے اور کسی وسیلے سے بظا ہر نہیں بلکہ اپنے فضل سے خود ہی کوئی سبیل پیدا کرتا ہے۔کتنے ہی مومنوں کا سب کچھ لوٹ لیا گیا مگر پھر اس نے ان کو غنی کر دیا۔٢٦- ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ بزرگی اور عزت والا۔فرمایا: تبرك اسم رَبَّكَ ذِي الْجَيْلِ وَالْإِكْرَامِ - (الرحمن: ۷۹) تیرے رب کا نام بہت برکتوں والا ہے وہ تمام بزرگیوں اور عزتوں والا ہے اور تمام عزتوں کا سر چشمہ ہے۔جیسا کہ فرمایا: فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا (الفاطر : ١١) خدا تعالیٰ کی اس صفت کے فیض سے انسانوں کو سوسائٹی میں عزت عطا کرتا ہے اور رسول کے ماننے والوں کو تقویٰ کی بناء پر اپنی جناب میں عزت و منزلت عطا کرتا ہے تا انہیں اور ترقی حاصل ہو اور ان کے استعداد میں نشو و نما پائیں۔۲۷۔اَلرَّشِيدُ رشد والا۔اسلام کو پسند کرنے والا۔صفات کمال والا۔فرمایا: قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَى - (البقرة: ۲۵۷) یہ بھی اس کی ربوبیت کی شان ہے کہ انسان کو عبودیت کے لئے پیدا کیا تاوہ صراط مستقیم پر چل کر جو اسلام کا راستہ ہے، جو فرمانبرداری واطاعت خدا وندی کا راستہ ہے۔اپنی نشوونما کرے اور کمال تک پہنچے۔