صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 12 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 12

یعنی الأسماء الحسنى ترجمه آیات سوره فرقان رکوع ۶،۵ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یعنی جب کافروں اور بے دینوں اور دہریوں کو کہا جاتا ہے کہ تم رحمن کو سجدہ کرو تو وہ رحمن کے نام سے متنفر ہو کر بطور انکار سوال کرتے ہیں کہ رحمن کیا چیز ہے۔( پھر بطور جواب فرمایا ) رحمان وہ ذات کثیر البرکت اور مصدر خیرات دائمی ہے جس نے آسمان میں برج بنائے۔برجوں میں آفتاب اور چاند کو رکھا جو کہ عامہ مخلوقات کو بغیر تفریق کا فرومومن کے روشنی پہنچاتے ہیں۔اسی رحمان نے تمہارے لئے یعنی تمام بنی آدم کے لئے دن اور رات بنائے جو کہ ایک دوسرے کے بعد دورہ کرتے رہتے ہیں تا جو شخص طالب معرفت ہو وہ ان دقائق حکمت سے فائدہ اٹھا وے اور جہل اور غفلت کے پردہ سے خلاصی پاوے اور جو شخص شکر نعمت کرنے پر مستعد ہو۔وہ شکر کرے۔رحمان کے حقیقی پرستار وہ لوگ ہیں کہ جو زمین پر بردباری سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے سخت کلامی سے پیش آئیں تو سلامتی اور رحمت کے لفظوں سے ان کا معاوضہ کرتے ہیں یعنی بجائے سختی کے نرمی اور بجائے گالی کے دعا دیتے ہیں۔اور تشبہ باخلاق رحمانی کرتے ہیں کیونکہ رحمان بھی بغیر تفریق نیک و بد کے اپنے سب بندوں کو سورج اور چاند اور زمین اور دوسری بے شمار نعمتوں سے فائدہ پہنچاتا ہے۔پس ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اچھی طرح کھول دیا کہ رحمان کا لفظ ان معنوں کر کے خدا پر بولا جاتا ہے کہ اس کی رحمت وسیع عام طور پر ہر یک برے بھلے پر محیط ہورہی ہے۔جیسا ایک جگہ اور بھی اسی رحمت عام کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔قَالَ عَذَ إِلَى أَصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ ۚ وَ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الاعراف:۱۵۷) یعنی میں اپنا عذاب جس کو لائق اس کے دیکھتا ہوں پہنچا تا ہوں اور میری رحمت نے ہر یک چیز کوگھیر رکھا ہے۔۔۔۔۔اگر خدا میں صفت رحمانیت ۱۲