صفات باری تعالیٰ — Page 5
۵ یعنی الأسماء الحسنى کو سب سے مقدم رکھا ہے اور پھر بعد اس کے صفت رحمن کو ذکر کیا اور پھر صفت رحیم کو بیان فرمایا۔پھر سب سے اخیر صفت مالک یوم الدین کو لائے۔پس سمجھنا چاہیے کہ یہ ترتیب خدا تعالیٰ نے کیوں اختیار کی اس میں نکتہ یہ ہے کہ ان صفات اربعہ کی ترتیب طبعی ہے اور اپنی واقعی صورت میں اسی ترتیب سے یہ صفات ظہور پذیر ہوتی ہیں۔“ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۴۴) پھر آپ علیہ السلام فرماتے ہیں:۔یہ چار صفتیں ہیں جو اس کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں یعنی اس کے پوشیدہ وجود کا ان صفات کے ذریعہ سے اس دنیا میں پتہ لگتا ہے۔“ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۷۹) کس قدر ظاہر ہے نو ر اس مبداء الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا ہے عجب جلوہ تیری قدرت کا پیارے ہر طرف جس طرف دیکھیں وہی راہ ہے تیرے دیدار کا ہیں تیری پیاری نگاہیں دلبرا ایک تیغ تیز جن سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑ اغم اغیار کا سرمه چشم آریہ روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۵۲) کو پیش کرنے کا یہ ایک نیا اسلوب ہے جس کی طرف راہنمائی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی ہے۔اس اصول کے تحت خدا تعالیٰ کی اُم الصفات کی تشریحات کے ساتھ ساتھ ان سے نکلنے والی دیگر صفات الہیہ کا علم حاصل کرنے سے اللہ تعالیٰ کی ذات کا ایک نیا عرفان حاصل ہوتا ہے۔جو اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے