صفات باری تعالیٰ — Page 4
یعنی الأسماء الحسنى چاہتی ہے۔اور تمام انواع مخلوق کے خواہ جاندار ہوں یا غیر جاندار اس سے پیرا یہ وجود پہنتے ہیں۔۲۔رحمانیت:۔اپنے فیضان کے لئے صرف عدم کو چاہتی ہے۔یعنی اس عدم محض کو جس کے وقت میں وجود کا کوئی اثر اور ظہور نہ ہوا اور صرف جانداروں سے تعلق رکھتی ہے اور چیزوں سے نہیں۔۳۔رحیمیت :۔اپنے فیضان کے لئے موجود ذوالعقل کے منہ سے نیستی اور عدم کا اقرار چاہتی ہے اور صرف نوع انسان سے تعلق رکھتی ہے۔۴۔مالکیت یوم الدین : اپنے فیضان کے لئے فقیرانہ تضرع اور الحاح کو چاہتی ہے اور صرف ان انسانوں سے تعلق رکھتی ہے جو گداؤں کی طرح حضرت احدیت کے آستانہ پر گرتے ہیں اور فیض پانے کے لئے دامن اخلاص پھیلاتے ہیں اور سچ مچ اپنے آپ کو تہی دست پا کر خدا تعالیٰ کی مالکیت پر ایمان لاتے ہیں۔یہ چار الہی صفات ہیں جو دنیا میں کام کر رہی ہیں اور ان میں سے جو رحیمیت کی صفت ہے وہ دعا کی تحریک کرتی ہے۔اور مالکیت کی صفت خوف اور قلق کی آگ سے گداز کر کے سچا خشوع اور خضوع پیدا کرتی ہے کیونکہ اس صفت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ مالک جزاء ہے کسی کا حق نہیں جو دعویٰ سے کچھ طلب کرے اور مغفرت اور نجات محض فضل پر ہے۔“ ایام اصلح روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۴۳) ام الصفات کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام مزید فرماتے ہیں: سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی چار صفتیں بیان فرمائی ہیں۔یعنی رب العالمین ، رحمن ، رحیم ، مالک یوم الدین اور ان چہار صفتوں میں سے رب العالمین