صفات باری تعالیٰ — Page 126
عباد الرحمان کی خصوصیات بلکہ اس کے لئے اس تمدنی زندگی میں نغض بصر کی عادت ڈالنا ضروری ہے۔“ ( اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۳- ۳۴۴) عبادالرحمان کی نویں خصوصیت اللہ تعالی عباد الرحمان کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ لوگ بدکاری کے قریب نہیں جاتے پھر فرماتا ہے جو ایسی بداخلاقیاں کریں گے اور زمین میں فساد پیدا کریں اور خدائے واحد کے پرستار نہیں بنیں گے اللہ تعالیٰ ان پر عذاب جہنم کو بڑھا دے گا۔الا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُوْلَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ - (الفرقان: ۷۱) ۲۶ سوائے ان لوگوں کے جوان غلطیوں کے سرزد ہو جانے کے بعد حقیقی تو بہ کر کے اعمال صالحہ بجا لا کر اپنی تو بہ کا ثبوت فراہم کر دیں گے۔ایسے لوگوں کی بدیوں کو نیکیوں میں بدل دیا جائے گا۔یعنی ان کو اعمال صالحہ کے ذریعہ سے بہت سی نیکیوں کی توفیق ملے گی۔جس کے نتیجہ میں ان کی بدیوں کے اثرات زائل ہو جائیں گے اور انہیں معاف کر دیا جائے گا۔جیسا کہ ایک اور جگہ فرمایا إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ - (هود: ۱۱۵) کہ نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں مگر شرط یہ ہے کہ بندہ ہر وقت تو بہ استغفار کرتا رہے تو بہ استغفار میں لگے رہنا عباد الرحمن کی نویں خصوصیت ہے۔”استغفار جس کے ساتھ ایمان کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں قرآن شریف میں دو معنے پر آیا ہے۔ایک تو یہ کہ اپنے دل کو خدا کی محبت میں محکم کر کے گناہوں کے ظہور کو جو علیحدگی کی حالت میں جوش مارتے ہیں خدا تعالیٰ کے تعلق کے ساتھ روکنا اور خدا میں پیوست ہو کر اس سے مدد چاہنا یہ استغفار تو مقربوں کا ہے جو ایک طرفتہ العین خدا سے علیحدہ ہونا اپنی تباہی کا موجب جانتے ہیں اس لئے