صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 84 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 84

یعنی الأسماء الحسنى فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ - ۱۱۲ - الْعَلِيُّ (الحاقة: ۵۳) ۸۴ بہت علو والا۔اللہ تعالیٰ کیونکہ سب سے فوق المرتبہ ہے اس لئے اس کا نام العلی ہے۔نماز میں بھی بار بار سُبحان ربی الاعلیٰ کہہ کر اس کے مرتبہ کا اقرار کیا جاتا ہے۔۱۱۳ - اَلْكَبِيرُ بزرگ تر۔تمام بزرگیوں کا مستحق۔بزرگی عطا کرنے والا الْعَلِجُ الكَبِيرُ۔یہ دونوں اسم بھی اکثر اکٹھے آتے ہیں اور کبھی العلی العظیم کے ساتھ بھی آیا ہے۔فرمایا: قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ - وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ - (السبا: ۲۴) (البقرة: ۲۵۶) اور یہ اسم الکبیر کے ساتھ نساء ع ۶- لقمان ع۳ میں بھی آیا ہے۔اور ان صفات میں خدا تعالیٰ کی شان مالکیت بیان کی گئی ہے اور نماز میں بھی بار بار اللہ اکبر کہہ کر اس کی بڑائی کا اظہار کیا جاتا ہے۔۱۱۴ - الْوَالِي تمام امور کا متولی اور سب کا مالک۔قرآن کریم میں یہ اسم رعد آیت 12 میں آیا ہے۔فرمایا: وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَالٍ (الرعد: ۱۲) یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا اس کے لئے کوئی بھی والی نہیں۔۱۱۵ - الشَّهِيدُ حاضر ونگہبان، گواہ ونگران بادشاہ۔یہ اسم شہود سے متعلق ہے یا شہادت سے۔شہود سے