صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 74 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 74

یعنی الأسماء الحسنى اپنے بندوں کا ضامن بن جاتا ہے۔۹۴ الْوَاجِد غنی۔مقصد میں کامیاب کرنے والی اور کامیاب ہونے والی ہستی۔۹۵- الْمُغَيّر انسان کے اپنے ایمان اور اعمال کے موافق اس کے ساتھ معاملہ کرنے والا۔فرمایا: ذالِكَ بِأَنَّ اللهَ لَمْ يَكُ مُغَيْرًا نِعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَى قَوْمٍ حَتَّى يُغَيْرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ - (الأَنْفال: ۵۴) ۷۴ یہ کہ اللہ تعالی اس نعمت کو بدلنے والا نہیں جو اس نے کسی قوم کو دی ہے جب تک کہ وہ قوم اپنے اندر کوئی تبدیلی نہ کرے۔افراد کے اعمال کا اثر ساری قوم کے اخلاق پر پڑتا ہے اور یہ بھی خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ قومی انعام کو قوم کے نا اہل ہونے کی وجہ سے واپس لے لیتا ہے۔چنانچہ بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے ذریعے کتنے انعام کئے گویا ان کی کوششوں اور دعاؤں سے مردہ قوم زندہ ہوگئی لیکن جب انہوں نے ہادی برحق حضرت محمد مصطفیٰ لیہ السلام کا نکار کر دیا تو سب انعام ان سے چھن گئے۔جب خدا تعالیٰ کے فرستادوں کا انکار کیا جائے تو قوم کی اصلاح کا مسئلہ کھٹائی میں پڑ جاتا ہے اور ایسی قوم سے انعامات لے کر کسی اور قوم کو جوان کی اہل ہو دے دیئے جاتے ہیں۔۹۶ _ النَّافِع نفع و خیر کو پیدا کرنے والا۔نیک اعمال کے بدلے سکھ دینے والا۔خدا تعالیٰ کی ذات ہی نفع رساں ہے باقی سب محتاج ہیں۔وہ اپنے خاص بندوں کے ساتھ خاص سلوک فرماتا ہے۔جو لوگ اس کی راہ میں قربانیاں کرتے ہیں پشت ہا پشت تک ان کو نوازتا ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام فرماتے ہیں: