صفات باری تعالیٰ — Page 71
یعنی الأسماء الحسنى ذلیل کر دے اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا۔۸۷- الْمُذِلُّ ذلیل کرنے والا۔اے اعزاز کہتے ہیں عزت کرنے کو اور اذلال خوار اور ذلیل کرنے کو۔اللہ تعالیٰ اطاعت و فرمانبرداری کی توفیق دے کر اس دنیا میں مزید انعامات عطا فرما کر اور جنت کا وارث قرار دے کر اس دنیا میں اپنے پیاروں کو عزت دیتا ہے اور عزت کے سامان پیدا کرتا ہے۔اور بالمقابل جو خدا تعالیٰ کے طریق کے مطابق نہیں چلتے۔اپنے اعمال بد کی وجہ سے ذلیل کئے جاتے ہیں۔حضرت امام غزالی " ان اسماء کے معنے کرتے ہیں کہ خدا جسے چاہتا ہے ملک دیتا ہے جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔یہ دونوں اسماء سورہ آل عمران میں اپنے مشتقات رکھتے ہیں۔وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ (آل عمران:۲۷) الْمُقَدِّمُ اپنے دوستوں کو بارگاہ عزت کی طرف بڑھانے والا اور اولیت دینے والا۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو مقدم کر لیتا ہے جو اس کی ذات کو دوسروں پر مقدم کر لیتے ہیں اور ترجیح دیتے ہیں۔صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے اپنا سب کچھ قربان کرد یا اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر مقدم کر لیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ بھی ان کو فتح پر فتح دیتا چلا گیا۔آج جماعت احمدیہ کے عالمگیر غلبہ کے لئے ۳۰۰ سال کا عرصہ مذکور ہے۔اگر آج صحابہ جیسی قربانیاں کرنے والے ہم بھی ہوئے تو یہ عرصہ اللہ تعالیٰ اپنی شفقت سے کم بھی کر سکتا ہے۔۸۹_ الْمُؤَخَّر جو خدا اور اس کے رسول کو قبول نہیں کرتے اور سفلی زندگی اختیار کرتے ہیں ان کو پیچھے