صفات باری تعالیٰ — Page 43
یعنی الأسماء الحسنى مناسب حال اور چرندوں کے لئے چرندوں کے مناسب حال اور انسان کے لئے انسان کے مناسب حال طاقتیں عنایت کیں اور صرف یہی نہیں بلکہ ان چیزوں کے وجود سے ہزار ہا برس پہلے بوجہ اپنی صفت رحمانیت کے اجرام سماوی و ارضی کو پیدا کیا تا وہ ان چیزوں کے وجود کی محافظ ہوں۔پس اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ کی رحمانیت میں کسی کے عمل کا دخل نہیں بلکہ وہ رحمت محض ہے جس کی بنیاد ان چیزوں کے وجود سے پہلے ڈالی گئی۔ہاں انسان کو خدا تعالیٰ کی رحمانیت سے سب سے زیادہ حصہ ہے کیونکہ ہر ایک چیز اس کی کامیابی کے لئے قربان ہو رہی ہے اس لئے انسان کو یاد دلایا گیا کہ تمہارا خدا رحمن ہے۔“ ایام اصبح روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۴۹٬۲۴۸) ۳۳_ الرحمن بلا مبادلہ فضل کرنے والا فرمایا: ۴۳ الرَّحْمَنُ عَلَمَ الْقُرْآنَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَمَهُ الْبَيَانَ (الرحمن: ۲ تا ۵) سورہ رحمن میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمانیت کے جلووں کا ذکر کیا ہے۔مثلاً قرآن کریم کا سکھایا جانا اور الانسان کی پیدائش اور پھر انسان کو قوت بیا نیہ کا عطا کیا جانا۔یہ سب رحمانیت کے تحت ہوا۔یہاں پر الانسان سے مراد رسول پاک ملتی ہی یہی ان کا وجود باجود ہے کیونکہ آپ ہی اپنے کمالات کی وجہ سے الانسان کہلانے کے مستحق ہیں کیونکہ آپ ہی وجہ تخلیق کا ئنات ہیں۔غرض تین احسانوں کا ان آیات میں ذکر ہے۔۱۔قرآن کریم۔۲۔رسول پاک صلی ایم۔۳۔آپ کا طرز بیان اور زور بیان۔یہ وہ عظیم جلوے ہیں جو خدا تعالیٰ کی رحمانیت کے تحت ظاہر ہوئے جن کے فیض سے انسان روحانی بلند مراتب پانے کے قابل ہے۔بمطابق سورۃ جمعہ آنحضرت صلی اینم کی بعثت امیین میں ہوئی اور آپ کی بعثت ثانیہ