صفات باری تعالیٰ — Page 36
صفات باری تعالى يعنى الأسماء الحسنى معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔جیسا کہ فرمایا: وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مُقِيِّتًا۔اور اللہ ہر امر پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔۲۳- الْجَبَّارُ (النساء:۸۶) جبر سے مشتق ہے۔جبر کے معنے ہیں ٹوٹے ہوئے کو جوڑنا۔اصلاح احوال کرنا۔غالب کرنا۔پہلی صورت میں یہ اسم جمالی اور دوسری صورت میں جلالی ہے گویا اس میں اس کی مالکیت کے تقاضے جھلک رہے ہیں اور ربوبیت کے بھی۔اس نے ایک ایسا نظام قائم کر دیا ہے جس میں ٹوٹ پھوٹ کی خود بخو داصلاح اور درستی ہوتی جاتی ہے۔انسانی جسم کو ہی لے لیں۔مردہ سیل کی جگہ زندہ سیل لئے جاتے ہیں۔یہاں تک کہ سات سال کے بعد جسم وہ نہیں رہتا جو ہوتا ہے۔تمام سیل تبدیل ہو چکے ہوتے ہیں۔اسی سے اس کی صفت کی اور میت کا بھی پتہ لگتا ہے کہ کس طرح موت کو حیات سے تبدیل کر دیتا ہے اور ایسا کرتا چلا جاتا ہے۔۲۴۔الْمُحْصِي ہر چیز کو احاطہ علم میں لے آنے والا۔چونکہ اللہ تعالیٰ حقائق اشیاء کو جانتا ہے اور ذرات عالم پر اس کا علم محیط ہے۔اس لئے خصی کہلاتا ہے۔چنانچہ فرمایا: وَ أَحْطَى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا۔(الجن: ٢٩) } ۳۶ وہ جو ہر چیز کوگن کر رکھتا ہے۔کوئی چیز اس کے قبضہ قدرت سے باہر نہیں۔ہر چیز اپنی تمام تفاضیل کے ساتھ اس کے حساب میں ہے اور ہر چیز کی ربوبیت وہ فرما رہا ہے۔۲۵ - اَلْمُغْنِي لوگوں کو مالدار کرنے والا۔بے پرواہ کرنے والا۔فرمایا: ان يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ - (النور:۳۳)