صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 35 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 35

یعنی الأسماء الحسنى ۳۵ تو لوگوں سے کہتا چلا جا کہ میں مخلوق کے رب سے اس کی پناہ طلب کرتا ہوں اس رب کی جو ظلمات کے بعد روشنی پھیلاتا ہے۔بچوں کونشو ونما دیتا ہے۔بظاہر نا کارہ کو کارآمد بناتا ہے۔اور اس کو امید سے بدل دیتا ہے۔بیج یا گٹھلیاں بظاہر ناکارہ چیز سمجھ کر پھینک دی جاتی ہیں مگر ان میں ایک کائنات روپوش ہوتی ہے۔جسے اپنے ربوبیت کے فیض سے سیراب کر کے باغات کی شکل میں ظاہر کر دیتا ہے۔اسی طرح رات جو ظلمات کا گہوارہ ہے جس سے خوف محسوس کیا جاتا ہے اسے پھاڑ کر طلوع فجر کے سامان پیدا کرتا ہے اور ہمارے لئے فعال زندگی کا ایک اور باب وا کرتا ہے۔پس خدا نے سکھایا کہ روشنی کے وقت، امید وبیم کے وقت فعال زمانہ میں ہر شر سے محفوظ رہنے کے لئے دعا کی جائے تالیلتہ القدر نمودار ہو جس کی تمام برکتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور ایسی اٹھان ہو کہ آئندہ مخالف آندھیاں بھی جڑ کو نہ ہلا سکیں۔۲۰ - اَلْمُبْدِى ابتداء پیدا کرنے والا۔تمام موجودات اور کائنات کا رب۔۲۱- الْمُعِيْدُ دوبارہ پیدا کرنے والا۔فرمایا: إِنَّهُ هُوَ يُبْدِي وَيُعِيدُ (البروج: ۱۴) یعنی یہ نہیں کہ ایک دفعہ تو سب کچھ اتفاق سے پیدا ہو گیا پھر ہو نہیں سکتا۔بلکہ وہ تو ایسی ذات ہے جو دوبارہ بلکہ سہ بارہ جتنی بار بھی چاہے اس جیسا بلکہ اس سے بہتر پیدا کرنے پر قادر ہے۔۲۲- الْمُقِيتُ مخلوقات کو روزی پہنچانے والا۔اسم المقیت‘ ماخوذ ہے قوت سے اور قوت کے معنی ہیں خوراک جو بدن انسانی کے لئے قیام کا باعث ہو۔کبھی مقیت تو انا نگاہ رکھنے والا اور گواہ کے