صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 18 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 18

صفات باری تعالى يعنى الأسماء الحسنى مجازات کا حقیقی طور پر وہی ہوگا یعنی اس کا وصل یا فصل سعادت ابدی یا شقاوت ابدی کا موجب ٹھہرے گا۔اس طرح پر کہ جولوگ اس کی ذات پر ایمان لائے تھے اور توحید اختیار کی تھی اور اس کی خالص محبت سے اپنے دلوں کو رنگین کر لیا تھا ان پر انوار رحمت اس ذات کامل کے صاف اور آشکارا طور پر نازل ہوں گے۔اور جن کو ایمان اور محبت الہیہ حاصل نہیں ہوئی وہ اس لذت اور راحت سے محروم رہیں گے اور عذاب الیم میں مبتلا ہو جائیں گے۔یہ فیوض اربعہ ہیں جن کو ہم نے تفصیل وار لکھ دیا ہے۔“ ( براہین احمدیہ چہار حصص روحانی خزائن جلد نمبر ا صفحه ۴۵۶٬۴۵۵ حاشیه) چاروں اُم الصفات کا مفہوم اور ان کی تشریح حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کے الفاظ میں پیش کی گئی ہے۔جب انسان ان صفات کے عرفان حاصل کرنے کے لئے سمندروں میں غوطہ زن ہوتا ہے تو جو ایسے سالک کے دل کی کیفیت ہوتی ہے وہ بھی آپ ملاحظہ کیجئے۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: ” جب انسان خدا تعالیٰ کی ان صفات کے بارہ میں غور کرتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ کی دعا کے شروع میں بیان فرمایا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے کمال اور اس کے جلال کی تمام صفات اور ثناء اس پر مشتمل ہے۔اور ہر قسم کے شوق اور محبت کے لئے محرک ہے اور یہ بھی جان لیتا ہے کہ اس کا رب تمام فیوض کا سرچشمہ ہے تمام بھلائیوں کا منبع ، تمام آفات کا دور کرنے والا اور ہر قسم کی جزا سزا کا مالک ہے۔نیز یہ کہ مخلوق کی پیدائش اسی سے شروع ہوئی ہے اور آخر کار مخلوقات اسی کی طرف لوٹائی جائیں گی۔اور وہ عیوب و نقائص اور برائیوں سے پاک ہے اور تمام صفات کمال اور ہر قسم کی خوبیاں اس میں پائی جاتی ہیں تب انسان لازما اللہ تعالیٰ کو ہی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے والا اور تمام ۱۸