صفات باری تعالیٰ — Page 14
صفات باری تعالى يعنى الأسماء الحسنى اس جگہ دیکھنا چاہیے کہ خدا نے کیسے صفت رحیمیت کو مومن کے ساتھ خاص کر دیا لیکن رحمانیت کو کسی جگہ مومنین کے ساتھ خاص نہیں کیا بلکہ جو مومنین سے رحمت خاص متعلق ہے ہر جگہ اس کو رحیمیت کی صفت سے ذکر کیا ہے۔پھر دوسری جگہ فرمایا ہے۔إنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ - (الاعراف: ۵۷) 66 یعنی رحیمیت الہی انہی لوگوں سے قریب ہے جو نیکو کار ہیں۔“ ( براہین احمدیہ چہار حصص روحانی خزائن جلد نمبر ۱ حاشیه صفحه ۴۵۱) آپ علیہ السلام اس صفت کے ذیل میں ہی ایک جگہ فرماتے ہیں : اب دعا سے انکار کرنا یا اس کو بے سود سمجھنا یا جذب فیوض کے لئے اس کو ایک محرک قرار نہ دینا گویا خدا تعالیٰ کی تیسری صفت سے جو رحیمیت ہے انکار کرنا ہے۔مگر یہ انکار در پردہ دہریت کی طرف ایک حرکت ہے کیونکہ رحیمیت ہی ایک ایسی صفت ہے جس کے ذریعہ سے باقی تمام صفات پر یقین بڑھتا اور کمال تک پہنچتا ہے۔وجہ یہ کہ جب ہم خدا تعالیٰ کی رحیمیت کے ذریعہ سے اپنی دعاؤں اور تضرعات پر الہی فیضوں کو پاتے ہیں اور ہر ایک قسم کی مشکلات حل ہوتی ہیں تو ہمارا ایمان خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کی قدرت اور رحمت اور دوسری صفات کی نسبت بھی حق الیقین تک پہنچتا ہے اور ہمیں چشم دید ماجرا کی طرح سمجھ آجاتا ہے کہ خدا تعالی در حقیقت حمد اور شکر کا مستحق ہے اور درحقیقت اس کی ربوبیت اور رحمانیت اور دوسری صفات سب درست اور صحیح ہیں لیکن بغیر رحیمیت کے ثبوت کے دوسری صفات بھی مشتبہ رہتی ہیں۔“ ایام اصلح روحانی خزائن جلد نمبر ۱۴ صفحه ۲۴۳، ۲۴۴) ۱۴ پس خدا تعالیٰ کی یہ ہر دوصفات یعنی رحمانیت اور رحیمیت اس کی ربوبیت کو عام و خاص کے دائروں میں تقسیم کرتی ہیں۔یا یوں کہنا چاہیے کہ اس کے جلال و جمال اور احسان کو ظاہر کرتی