صفات باری تعالیٰ — Page 137
عباد الرحمان کی خصوصیات ۳۷ یہ تھے صحابیات کے وقف اولاد کے نمونے جو قرون اولیٰ میں انہوں نے اسلام کی خاطر دیئے اور یہ تھے صحابہ کی اولاد کے اعلیٰ ترین نمونے کہ جان تک کی بازی لگادی اور اسلام کی آن پر آنچ تک نہ آنے دی۔آج بھی اسی قسم کی قربانیوں کی ضرورت ہے۔دین اسلام بے کسی یتیم کی طرح اس بات کا متمنی ہے کہ ایک دفعہ پھر خنساء جیسی اولوالعزم اور بہادر ماؤں کے بیٹے آگے بڑھیں اور کفرستانوں میں نکل جائیں اور قرآن کو ہاتھوں میں لے کر دلوں کی زمینوں پر فتح و نصرت کے جھنڈے گاڑ دیں۔توحید خداوندی کا ڈنکا بجنے لگ جائے۔یہ قربانی آج بھی خلیفہ وقت کی خدمت میں پیش کریں۔آج بھی مائیں اپنی اولادیں دین کی نصرت کے لئے پیش کر کے حضرت خنساء کے مقام کو حاصل کر سکتی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ وقت کی نزاکت کو سمجھا جائے اور جرات اور بہادری سے نیکیوں میں سبقت لے جانے کے جذبہ کے ساتھ خدا کی خاطر نیکی کی طرف قدم اٹھانے میں دیر نہ کی جائے۔عبادالرحمان کی تیرھویں خصوصیت عبادالرحمان کی ایک خصوصیت یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ وہ ہر وقت خدا تعالیٰ کی بے نیازی کو سامنے رکھتے ہیں۔اور دعا پر بہت زور دیتے ہیں۔کیونکہ انہیں اپنے عجز اور انکساری کے متعلق معلوم ہوتا ہے کہ وہ مشتِ خاک ہیں۔وہ کرم خا کی ہیں۔جب تک خدا تعالیٰ کی عنایت ور فضل نہ ہو وہ کچھ بھی نہیں ہیں۔اس لئے وہ دعاؤں پر بہت زور دینے والے ہوتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرما دیا ہے قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمُ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا (الفرقان: ۷۸) ترجمہ۔(اے رسول ) تو ان سے کہہ دے کہ میرا رب تمہاری پر واہ ہی کیا کرتا ہے اگر تمہاری طرف سے دعا اور استغفار نہ ہو پس ( جب کبھی ) تم نے پیغام الہی کو جھٹلا دیا تو (تب) اس کا عذاب ( تم سے ) چمٹا چلا جائے گا۔“