صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 138 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 138

۳۸ عباد الرحمان کی خصوصیات حضرت خلیفہ المسیح الثانی فرماتے ہیں: حقیقت یہ ہے کہ مذہب کی جان اور اُس کا خلاصہ اور اس کی روح اگر کوئی چیز ہے تو وہ صرف دُعا ہے۔مگر دُعا اس امر کا نام نہیں کہ انسان صرف مونہہ سے ایک بات کہہ دے اور سمجھ لے کہ دُعا ہو گئی۔دعا اللہ تعالیٰ کے حضور پگھل جانے کا نام ہے دُعا ایک موت اختیار کرنے کا نام ہے۔دُعا تذلل اور انکسار کا مجسم نمونہ بن جانے کا نام ہے۔جو شخص صرف رسمی طور پر مونہہ سے چند الفاظ دہراتا چلا جاتا ہے اور تذلل اور انکسار کی حالت اس کے اندر پیدا نہیں ہوتی۔جس کا دل اور دماغ اور جس کے جسم کا ہر ذرہ دُعا کے وقت محبت کی بجلیوں سے تھر تھر انہیں رہا ہوتا وہ دُعا سے تمسخر کرتا ہے۔وہ اپنا وقت ضائع کر کے خدا تعالیٰ کا غضب مول لیتا ہے۔پس ایسی دُعا مت کرو جو تمہارے گلے سے نکل رہی ہو اور تمہارے اندر اس کے مقابل پر کوئی کیفیت پیدا نہ ہو۔وہ دعا نہیں بلکہ قہر الہی کو بھڑ کانے کا ایک شیطانی آلہ ہے۔جب تم دُعا کرو تو تمہارا ہر ذرہ اللہ تعالیٰ کے جلال کا شاہد ہو۔تمہارے دماغ کا ہر گوشہ اس کی قدرتوں کو منعکس کر رہا ہو اور تمہارے دل کی ہر کیفیت اس کی عنایتوں کا لطف اٹھا رہی ہو۔تب اور صرف تب ہم دُعا کرنے والے سمجھے جا سکتے ہو۔یہ کیفیت پیدا ہونی بظاہر مشکل نظر آتی ہے مگر جس شخص کے ایمان کی بنیاد عشق الہی پر ہو۔اس کے لئے اس سے زیادہ آسان اور کوئی شے نہیں بلکہ اُس کی طبیعت کا یہ کیفیت ایک خاصہ بن جاتی ہے اور وہ ہر وقت اس سے لطف اندوز ہورہا ہوتا ہے۔ایسے انسان کو یہ ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ الگ جا کر اور مصلے پر بیٹھ کر دُعائیں کرے بلکہ خلوت و جلوت میں دُعا کر رہا ہوتا ہے۔اور جب اُس کی زبان پر اور اور کلام جاری ہوتا ہے اور اس کی آنکھوں کے آگے اور اور نظارے پھر رہے ہوتے ہیں۔اُسکی رُوح اپنے مالک