صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 128 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 128

عباد الرحمان کی خصوصیات ۲۸ انسان کا کانشنس اپنے اندر یہ قوت رکھتا ہے کہ وہ اس کو ہر برائی پر متنبہ کرتا ہے ،مگر بد بخت انسان اس کو معطل چھوڑ دیتا ہے۔پس گناہ اور بدی کے ارتکاب پر پشیمانی ظاہر کرے اور یہ خیال کرے کہ یہ لذات عارضی اور چند روزہ ہیں اور پھر یہ بھی سوچے کہ ہر مرتبہ اس لذت اور حظ میں کمی ہوتی جاتی ہے۔یہاں تک کہ بڑھاپے میں آکر جبکہ قومی بیکار اور کمزور ہو جائیں گے۔آخر ان سب لذات دنیا کو چھوڑنا ہوگا۔پس جبکہ خود زندگی ہی میں یہ سب لذات چھوٹ جانے والی ہیں تو پھر اُن کے ارتکاب سے کیا حاصل؟ بڑا خوش قسمت ہے وہ انسان جو تو بہ کی طرف رجوع کرے اور جس میں اول اقلاع کا خیال پیدا ہو یعنی خیالات فاسده و تصورات بیہودہ کا قلع قمع کرے۔جب یہ نجاست اور نا پا کی نکل جاوے تو پھر نادم ہو اور اپنے کئے پر پشیمان ہو۔تیسری شرط عزم ہے۔یعنی آئندہ کے لئے مصمم ارادہ کر لے کہ پھر ان برائیوں کی طرف رُجوع نہ کرے گا اور جب وہ مداومت کرے گا، تو خدا تعالیٰ اسے سچی توبہ کی توفیق عطا کرے گا۔یہانتک کہ وہ سیئات اس سے قطعاً زایل ہوکر اخلاق حسنہ اور افعال حمیدہ اُس کی جگہ لے لیں گے اور یہ فتح ہے اخلاق پر۔اس پر قوت اور طاقت بخشا اللہ تعالیٰ کا کام ہے، کیونکہ تمام طاقتوں اور قوتوں کا مالک وہی ہے۔جیسے فرما یا آنَ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا ( ملفوظات جلد اول صفحه ۱۳۲ تا ۱۳۴) تو بہ، استغفار اور محاسبہ نفس کے ذریعے ہر وقت چوکنے اور ہوشیار ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف جھکنا چاہیے تا ہمارا خدا ہم سے راضی ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” خدا سے ڈرتے رہو اور تقویٰ اختیار کرو۔اور مخلوق کی پرستش نہ کرو اور اپنے مولیٰ کی طرف منقطع ہو جاؤ اور دنیا سے دل برداشتہ رہو اور اسی کے ہو جاؤ اور اسی کے لئے زندگی بسر کرو اور اس کے لئے ہر ایک نا پا کی اور گناہ سے نفرت کرو۔کیونکہ وہ پاک ہے چاہئے کہ ہر ایک صبح تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے تقویٰ سے رات بسر کی اور ہر ایک شام تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے