صفات باری تعالیٰ — Page 124
عباد الرحمان کی خصوصیات ۲۴ عبادالرحمن کی ساتویں خصوصیت عبادالرحمن کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ کسی سے بلا وجہ لڑتے جھگڑتے نہیں کیونکہ قتل کے جہاں ایک معنے قتل کرنے کے ہیں وہاں لڑنے جھگڑنے کے بھی ہیں۔اور دوسرے یہ کہ وہ بلاوجہ اور بغیر حکم شرعی کے کسی جان کو تلف نہیں کرتے۔یہ دونوں صفات عباد الرحمن کا خاصہ ہیں۔رسول کریم صلی اینم کی تعلیم کا یہ اثر تھا کہ صحابہ کی تلوار صرف ان لوگوں پر اٹھتی تھی جو مقابلہ کرتے تھے۔معذوروں ، یتیموں ، راہبوں اور عورتوں پر ان کی تلوار کبھی نہیں اٹھی۔ہٹلر ، چنگیز خان اور ہلاکو خان کی مثالیں دنیا کے سامنے ہیں کہ کس طرح ان کی تلوار سے بے گناہوں کا بھی خون بہا لیکن یہ صحابہ کرام کا ہی نمونہ تھا کہ دشمن کے خلاف جب بھی نکلے ان کے اموال اور عزتوں کی بھی انہوں نے حفاظت کی۔اس کے علاوہ آپس میں بھی وہ اخوت و ہمدردی کے جذبہ سے سرشار ہو کر زندگی بسر کرتے تھے۔لڑتے جھگڑتے نہیں تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کا منشاء کیا قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے۔مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَانَمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيع وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَانَمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا - (المائدة: ۳۳) ترجمہ۔جو کسی شخص کو بغیر اس کے کہ اس نے قتل کیا ہو یا ملک میں فساد پھیلا یا ہو قتل کر دے گا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا اور جو اسے زندہ کرے گا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو زندہ کر دیا۔رسول کریم صلی این باہمی اخوت اور ہمدردی کی روح کو قائم رکھنے کے لئے فرماتے ہیں الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ