صفات باری تعالیٰ — Page 116
عباد الرحمان کی خصوصیات مالک بنا دیا۔“ (تفسیر کبیر جلد ششم صفحه ۵۶۴-۵۶۵) عباد الرحمن کی چوتھی خصوصیت جب اللہ تعالیٰ کا بندہ قیام لیل اور عبادت الہی اور خدا تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ اپنا معاملہ صاف ستھرا رکھنے کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ سے اپنا پیوند جوڑتا ہے تو اسے اس تعلق کے نتیجہ میں ایسی لذت اور سرور حاصل ہوتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ذراسی ناراضگی یا دوری کو اپنے لئے جہنم اور اس رشتہ محبت میں ذرا سے فرق کو اپنی تباہی سمجھتا ہے۔وہ دعاؤں میں لگا رہتا ہے۔خدا تعالیٰ کی بے نیازی اور بلندشان ایک طرف اور دوسری طرف اپنی ناچیز اور ناکارہ ہستی اس کے سامنے ہوتی ہے۔چنانچہ وہ یہ دعا کرتا ہے: رَبَّنَا اصْرِفُ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا إِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرَّا وَمُقَامًا۔اے ہمارے رب عذاب جہنم کو ہم سے دور رکھ کیونکہ جہنم کا عذاب بہت بری تباہی ہے چاہے وہ عارضی ہو یازیادہ دیر تک قائم رہنے والا ہو۔“ عباد الرحمن کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے ایک پل بھر کے لئے دوری برداشت نہیں کر سکتے۔چہ جائیکہ زیادہ دیر تک دوری ان پر قائم رہے۔انسان کی تخلیق ہی طین لا زب ہے۔یعنی چھٹے رہنے والی مٹی۔انسان میں اپنے رب حقیقی سے چمٹے رہنے والی خاصیت رکھی گئی ہے۔جو عباد الرحمن میں اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ وہ خدا کی دوری کے تصور سے ہی گھبرا اٹھتے ہیں اور چلا اٹھتے ہیں کہ اے خداوند جہنم کے عذاب سے بچائیو چاہے چند منٹ کا ہی کیوں نہ ہو پھر وہ یہ بھی دعا کرتے ہیں۔کہ الہی ہمیں ہرایسے کام سے بچائیو جو ہمیں دنیا و آخرت میں ذلیل کر نے والا ہو۔تو ہمیں افلاس اور تنگدستی کے جہنم سے بچا۔ہمیں جہالت اور کم علمی کے جہنم سے بچا۔ہمیں بد اخلاقی اور عیاشی کے جہنم سے بچا۔ہمیں دنیا داری اور ۱۶