صفات باری تعالیٰ — Page 98
یعنی الأسماء الحسنى ایک صفت تشبیہی دوسری صفت تنزیہی۔اور چونکہ خدا کے کلام میں دونوں صفات کا بیان کرناضروری تھا یعنی ایک تشبیبی صفت اور دوسری تنزیہی صفت اس لئے خدا نے تشیبی صفات کے اظہار کے لئے اپنے ہاتھ ، آنکھ، محبت بغضب وغیرہ صفات قرآن شریف میں بیان فرمائے اور پھر جب کہ احتمال تشبیہ کا پیدا ہوا تو بعض جگہ لَيْسَ كَمِثْلِہ کہہ دیا اور بعض جگہ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ کہہ دیا جیسا کہ سورہ رعد جز ونمبر 11 میں بھی یہ آیت ہے اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ (الرعد: ۳) ( ترجمہ ) تمہارا خدا وہ خدا ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستون کے بلند کیا جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو اور پھر اُس نے عرش پر قرار پکڑا۔اس آیت کے ظاہری معنی کے رو سے اس جگہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پہلے خدا کا عرش پر قرار نہ تھا۔اس کا یہی جواب ہے کہ عرش کوئی جسمانی چیز نہیں ہے بلکہ وراء الوراء ہونے کی ایک حالت ہے جو اُس کی صفت ہے پس جبکہ خدا نے زمین و آسمان اور ہر ایک چیز کو پیدا کیا اور ظلی طور پر اپنے نور سے سورج چاند اور ستاروں کو نور بخشا اور انسان کو بھی استعارہ کے طور پر اپنی شکل پر پیدا کیا اور اپنے اخلاق کریمہ اس میں پھونک دیئے تو اس طور سے خدا نے اپنے لئے ایک تشبیبہ قائم کی مگر چونکہ وہ ہر ایک تشبیہ سے پاک ہے اس لئے عرش پر قرار پکڑنے سے اپنے تندہ کا ذکر کر دیا۔خلاصہ یہ کہ وہ سب کچھ پیدا کر کے پھر مخلوق کا عین نہیں ہے بلکہ سب سے الگ اور وراء الوراء مقام پر ہے“ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۶۶،۲۶۵) پھر آپ علیہ السلام خدا تعالیٰ کی ہستی کے متعلق عمومی رنگ میں فرماتے ہیں " آج کل توحید اور ہستی الہی پر بہت زور آور حملے ہورہے ہیں۔عیسائیوں نے بھی بہت کچھ زور مارا ہے اور لکھا ہے لیکن جو کچھ کہا اور لکھا ہے وہ ۹۸