صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 82 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 82

یعنی الأسماء الحسنى وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَى - الضحى : ٨) ۸۲ آپ کو اپنی محبت میں سرشار گویا کہ اپنے وجود سے بھی فراموش پایا اور آپ کو ہدایت کی را ہیں دکھا دیں۔اور وصال الہی آپ کو حاصل ہوا۔یہ تو وہ حالت تھی جس سے آپ کے مخالف بھی آگاہ تھے اور وہ بھی کہا کرتے تھے عشق مُحمد ربه کہ محمد تو اپنے رب کے عاشق ہو گئے ہیں۔۱۰۸ - الصّمد بے نیاز انسان کے مقاصد کا اصل مرجع - صمد کے اصل معنی ہیں قصد چونکہ انسان اپنے تمام مطالب و مقاصد میں اللہ تعالیٰ کا محتاج اور اسی کا قصد کرتا ہے۔اس لئے اس کی صفت الصَّمَدُ ہے۔سورہ اخلاص میں فرما یا: قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام اس کے متعلق فرماتے ہیں اس اقل عبارت کو جو بقدر ایک سطر بھی نہیں دیکھنا چاہیے کہ کس نظافت اور عمدگی سے ہر ایک قسم کی شراکت سے وجود حضرت باری کا منزہ ہونا بیان فرمایا ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ از روئے حصر عقلی چار قسم پر ہے۔کبھی شرکت عدد میں ہوتی ہے کبھی مرتبہ میں اور کبھی نسب میں اور کبھی فعل اور تاثیر میں سو اس سورہ میں ان چاروں قسموں کی شراکت سے خدا کا پاک ہونا بیان فرمایا اور کھول کر بتلا دیا کہ وہ اپنے عدد میں ایک ہے۔دو یا تین نہیں اور وہ صمد ہے یعنی اپنے مرتبہ وجوب اور محتاج الیہ ہونے میں منفر داور یگانہ ہے اور بجز اس کے تمام چیزیں ممکن الوجود اورھا لک الذات ہیں۔جو اس کی طرف ہر دم محتاج ہیں۔“ (براہین احمدیہ چہار تص روحانی خزائن جلد نمبر ا صفحه ۵۱۸ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳)