صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 77 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 77

یعنی الأسماء الحسنى خدا تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوتا ہے اور مالکیت یوم الدین اگر چہ وسیع اور کامل طور پر عالم معاد میں متقی ہوگی مگر اس عالم میں بھی اس عالم کے دائرہ کے موافق یہ چاروں صفتیں تجلی کر رہی ہیں۔“ ۹۷- الْمَالِک ( کشف الغطاء روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۵۰-۲۵۱) جزاء سزا دینے والا مَالِكُ بِيَدِهِ مَلَكُوتُ LL مالک با اختیار ہوتا ہے اور اچھائی کی جزاء اور برائی کی سزادینے میں بھی با اختیار ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ جو عالم الغیب بھی ہے وہ جذبوں کو بھی جاننے والا ہے اسی لئے بڑھ چڑھ کر جزاء دیتا ہے اور سزا اتنی ہی دیتا ہے جتنا قصور ہوں۔تبھی تو جنت دائگی اور دوزخ عارضی ہے۔کیونکہ اس کی رحمت ہر چیز ہر حاوی ہے۔آنحضرت سلی لا پیہم نے بھی فرمایا کہ ایک وقت آئے گا جب نسیم صبا دوزخ میں چلے گی تو دروازے کھڑکھڑائے گی اس میں کوئی بھی نہ ہوگا۔سچ ہے رخمینی وسعت كل شَيءٍ آنحضرت صلی اا اینم اس صفت کے کامل مظہر تھے۔آپ نے جبکہ با اختیار تھے فتح مکہ کے وقت لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْم فرمایا اور اپنے خون کے پیاسوں کو بخش دیا۔یہ اعلیٰ اخلاق جب انہوں نے دیکھا تو وہ آپ کے گرویدہ ہو گئے اور سب کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے۔بائکھیل میں بھی تاکستان کی تمثیل میں آپ کی آمد کو مالک کا آنا قراردیا گیا ہے۔۹۸ - اَلْمَلِكُ دیکھیں متی باب ۲۱ آیت ۴۰) پورا مالک اشیاء کی خلق و بقاء پر۔مالک اور ملک میں بہت فرق ہے۔مالک عام ہے اور ملک خاص ہے پھر ما لک ملک نہیں ہوتا۔برخلاف اس کے ہر ملک مالک ضرور ہوتا ہے۔قرآن