صفات باری تعالیٰ — Page 30
یعنی الأسماء الحسنى يدبر الامر يُفَضِلُ الْآيَتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَاءِ رَبِّكُمْ تُوقِنُونَ (الرعد: ۳) اللہ تعالیٰ ہر امر کا انتظام کرتا ہے اور اپنی آیات کو کھول کر بیان کرتا ہے تا کہ تم لوگ اپنے سے ملنے کا یقین رکھو۔امر اور خلق اسی کے ہاتھ میں ہے اور بے شمار نشانات کا ئنات میں بکھرے پڑے ہیں جو اس کی طرف راہنمائی کرتے ہیں۔اور اس کی ہستی کا ثبوت فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے اس کی ملاقات کا شوق پیدا ہوتا ہے۔جہاں کہیں يُدَبِرُ الأَمر فرمایا اس کے ساتھ تکوین عالم کا ضرور ذکر فرمایا تا کہ احکام خداوندی کے نفاذ کی طرف توجہ ہو جائے۔فرمایا: يديرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ - (السجدة: 1) وہ آسمان سے زمین تک اپنے حکم کو اپنی تدبیر کے مطابق قائم کرتا ہے یہ امر قانون قدرت کے ذریعہ سے بھی ہر جگہ ہمیں نظر آرہا ہے جس کے ذریعہ سے ربوبیت عالمین ہو رہی ہے۔اللہ تعالیٰ کی مدبر بالا رادہ ہستی ہر زمانہ میں اپنے ارادے کا اظہار اس طرح فرماتی ہے کہ وہ اپنے پیاروں کو عزت اور ان کے مخالفوں کو ذلت دیتی ہے۔اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو فرمایا: انى معين من اراد اعانتك و انى مهين من اراد اهانتك ( تذکرہ صفحہ ۱۹۴ ایڈیشن پنجم ) میں اس کا مددگار ہو جاؤں گا جو تیری مدد کا ارادہ کرے گا اور میں اس کو ذلیل کر دوں گا جو تجھے ذلیل کرنے کا ارادہ بھی کرے گا۔ایسے اعلانات سماوی کے ساتھ اس کے فرشتے بھی ایسے ارادہ الہی کی تکمیل کے لئے اترتے ہیں اور کوشش میں لگ جاتے ہیں اور پھر دنیا اس کی صفات کے جلوے دیکھتی ہے۔