صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 88 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 88

یعنی الأسماء الحسنى اور تاریخ سابق سے یہ بات اظہر من الشمس ہے۔۱۲۳۔بَرِى مِنَ الْمُشْرِكِيْن مشرکین سے بے زار۔فرمایا: الْمُشْرِكِينَ وَ آذَانٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَقِّ الْأَكْبَرِ أَنَّ اللَّهَ بَرِى مِنَ (التوبة: ٣) یعنی اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمام لوگوں کو حج اکبر کے دن اطلاع دی جاتی ہے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بے زار ہیں۔دوسری جگہ فرمایا: إِنَّ الشَّرُكَ لَظْلَمُ عَظيم - (لقمان: ۱۴) چنانچہ ظلم عظیم کے مرتکبین کے نام ایک نوٹس جاری کیا گیا کیونکہ وہ حقائق سے منہ پھیر کر ظلمات کے پیچھے دوڑنے والے ہیں۔اور ایسے نوٹس جاری فرمانا بھی خدا تعالیٰ کی ایک حاکمانہ شان ہے۔۱۲۴ - مُؤْهِنُ كَيْدِ الْكَافِرِين اپنے امور میں اور برگزیدوں کے مقابلہ میں منکرین کے منصوبوں اور تدابیر کو بے کار کر دینے والا۔فرمایا: الِكُمْ وَأَنَّ اللَّهَ مُوْهِنُ كَيْدِ الْكَافِرِينَ (الأَنْفال:١٩) اور بے شک اللہ تعالیٰ کا فروں کے منصوبوں کو بے کار کر دینے والا ہے۔۱۲۵- اَشَدُّ بَابًا عذاب میں سختی کرنے والا شدید الحرب۔یہ اسم نساء ع ۱۲ میں آیا ہے۔اور ساتھ ہی اشَدُّ تنکیلا بھی آیا ہے۔فرمایا: وَاللهُ اَشَدُّ بَأْسًا وَ اَشَدُّ تَنْكِيلا - (النساء:۸۵)