صفات باری تعالیٰ — Page 87
یعنی الأسماء الحسنى یہ اسم اسی طرح تین جگہ اور بھی آیا ہے۔١١٩۔سَرِيعُ الْعِقَابِ جلد نتیجہ دکھانے والا۔جلد عذاب دینے والا (انہیں جو تو بہ نہیں کرتے اور گمراہی میں آگے ہی آگے بڑھتے جاتے ہیں ) یہ اسم قرآن کریم میں دو جگہ آیا ہے۔فرمایا : إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ - (الأعراف: ۱۶۸) اور سورہ انعام میں بھی آیا ہے۔۱۲۰۔شَدِيدُ الْعَذَابِ سخت عذاب دینے والا۔فرمایا: وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ۔(إبراهيم: ٨) اور اگر تم نے انکار کیا تو یا درکھو میر اعذاب بہت سخت ہے۔۱۲۱ - شَدِيدُ الْبَطْشِ جس کی گرفت میں سختی اور قوت ہو۔فرمایا: إِنَّ بَطْشَ رَبَّكَ لَشَدِيدُ۔نیز فرمایا: (البروج : ١٣) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ۔(الشعراء: ۱۳۱) ۱۲۲_ مُخْزِئَ الْكَافِرِينَ ۸۷ منکرین کو انبیاءورسل کے مقابلہ میں ذلیل کرنے والا۔یہ بھی اس کی حاکمانہ شان ہے کہ پنے پیغمبروں کے مقابل منکرین کو ذلیل کرتا ہے۔جیسا کہ فرمایا: وَ أَنَّ اللَّهَ مُخْزِي الْكَافِرِينَ (التوبة:٢)