صدق المسیح — Page 57
با قاعدہ اس غرض کے لئے دیو بندیوں کو تنخواہیں ملتی تھیں کہ وہ انگریز حکومت کی موافقت واعانت میں آواز میں اُٹھائیں۔سوانح حیات مولا نا محمد احسن نانوتوی جسے مکتبہ عثمانیہ کراچی پاکستان نے شائع کیا ہے میں مؤلف کتاب نے اخبار انجمن پنجاب لاہور مجریہ ۱۹ فروری ۱۸۷۵ء کے حوالے سے لکھا ہے۔کہ۳۱ جنوری ۱۸۷۵ء بروز یکشنبہ لفٹ گورنر کے ایک خفیہ معتمد انگریز مسمی پامر نے مدرسہ دیو بند کا معائنہ کیا اسکا ذکر کرتے ہوئے کتاب میں لکھا ہے۔”جو کام بڑے بڑے کالجوں میں ہزار روپیہ کے صرف سے ہوتا ہے وہ یہاں کوڑیوں میں ہورہا ہے جو کام پر نسپل ہزاروں روپیہ ماہوار تنخواہ لیکر کرتا ہے وہ یہاں مولوی چالیس روپیہ ماہانہ پر کر رہا ہے یہ مدرسہ خلاف سرکار نہیں بلکہ موافق سر کارممد و معاونِ سر کا ر ہے۔“ (مولانا محمد احسن نانوتوی صفحہ ۷ ۲۱ بحوالہ زلزله صفحه : ۹۴) پس دیو بندیوں نے صاف اقرار کیا ہے کہ ہم تھوڑی رقم کے عوض میں سرکا رانگریزی کی غلامی کر رہے ہیں چنانچہ قاری محمد طیب صاحب مہتم دارالعلوم دیو بند کا یہ بیان ملاحظہ فرمائیے۔مدرسہ دیو بند میں کارکنوں کی اکثریت ایسے بزرگوں کی تھی جو گورنمنٹ کے قدیم ملازم حال پنیشنر تھے۔“ ( حاشیہ سوانح قاسمی صفحه ۲۴۷ بحوالہ زلزله صفحه ۹۶) اسی طرح یہ بات یہ خاص و عام کو معلوم ہے کہ جنگ عظیم دوم میں متحدہ ہند ہندوستان پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں کو شامل کرنے کے لئے انگریز نے مولوی رشید احمد گنگوہی کے فتووں سے ہی فائدہ اُٹھایا۔پیسہ اخبار لا ہورا ارمئی ۱۹۱۸ء) 57