صدق المسیح — Page 33
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ازالہ اوہام میں صاف طور پر فرما دیا ہے۔” اور میں کہتا ہوں کہ مہدی کی خبریں ضعف سے خالی نہیں اسی وجہ سے امامین حدیث بخاری و مسلم نے ان کو نہیں لیا۔(ازالہ اوہام صفحہ ۵۶۸ ایڈیشن اول حصہ دوم ) چنانچہ تاہم نبی کو سہو اور نسیان سے پاک نہیں مانتے۔قرآن میں ہے فَنَسِی (طہ: ۱۱۶) کہ آدم بھول گیا۔پھر حضرت موسیٰ کے متعلق نَسِيَا حُوْتَهُما (الکہف:۶۲) کہ وہ مچھلی بھول گئے اور آگے لکھا ہے کہ شیطان نے انہیں بھلا دیا۔خود آنحضرت نے فرمایا ہے۔إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ (الكهف) نيز أُصِيبُ وأُخْطِيُّ (نبراس شرح الشرح العقائد نسفی صفحہ ۳۹۳) کہ میں بھی تمہاری طرح انسان ہوں بعض دفعہ خطا کرتا ہوں۔بخاری میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ عشاء یا عصر کی نماز پڑھائی اور دورکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا اور پھر یاد دلانے پر چھوڑی ہوئی دور کعتیں پڑھیں اور بعد میں سجدہ سہو کیا تفصیل کے لئے دیکھیں: بخارى كتاب الصلوة باب فى السجدة السهو جلد ۱ صفحه ۱۴۱ باب تَشْبِيْك الأصابع في المسجد جلد ۱ صفحه ۶۴ مصری نیز دیکهو صحیح مسلم كتاب الصلوة باب السهو الصلوة والسجودله جلد ۱ صفحه ۲۱۵ مصری۔اب کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول لم أَنسَ وَلَمْ تُقْصَرْ کوکوئی جھوٹ قرار دے سکتا ہے ہرگز ہر گز نہیں۔گویا بخاری و مسلم میں مہدی کے متعلق احادیث ہیں اور ظاہر ہے ك هَذَا خَلِيْفَةُ اللهِ الْمَهْدِى آسمان سے آواز آنا کہ یہ خدا کا خلیفہ مہدی ہے۔بہر حال مہدی کے متعلق ہے پس حضرت مسیح موعود کے اپنے صاف بیان کے مطابق یہ حدیث بخاری میں نہیں۔ہاں یہ حدیث اسی طرح صحیح ہے جس طرح بخاری کی دوسری احادیث کیونکہ :۔كَذَا ذَكَرَهُ السَّيُوطِيُّ وَفِي الزَّوائِدِ هَذَا أَسْنَادٌ صَحِيْحٌ۔رِجَالُهُ ثِقَاتْ 33