صدق المسیح — Page 10
اس بارہ میں تمام اقوال جمع کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت کے بارہ (۱۲) اولا دیں تھیں۔(سیرۃ النبی حصہ دوم صفحہ: ۲۴۹ شائع کردہ مکتبہ مدیندار دو بازار لاہور ) چنانچہ یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے کہ حضور کے ہاں گیارہ لڑکے ہوئے تھے یا نہیں ایک روایت تاریخ الخمیس صفحہ: ۳۰۸ - ۳۰۷ اور مداریج النبوۃ جلد ۲ صفحہ: ۴۷۹ میں بعثت نبوی کے بعد آپ کے ہاں گیارہ لڑکے پیدا ہونے کی بھی آئی ہے اور سیرت حلبیہ جلد ۳ صفحہ ۳۴۷- ۳۴۵ پر ان سب کے نام بھی دئے گئے ہیں۔قارئین کرام! جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کی تعداد میں مؤرخین اور سیرت نگاروں کے درمیان سخت اختلاف ہے اور اس پس منظر میں اگر بانی جماعت احمد یہ علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کی تعدا د سلف صالحین کی تحقیق کے مطابق گیارہ تحریر فرمائی ہے تو اس میں جھوٹ کیا ہے۔نیز معترض مفتی صاحب نے یہ لکھا ہے کہ آج تک کسی ایک مؤرخ نے کہیں نہیں لکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گیارہ لڑکے پیدا ہوئے۔ان مذکورہ حوالہ جات سے مفتی صاحب موصوف کی کور باطنی اور تعصب کا اندازہ ہوتا ہے۔فاعتبرو آیا اولی الابصار قارئین خود غور فرماویں کہ مفتی صاحب نے اگر اسلامیات کا مطالعہ کیا ہوا ہوتا تو اس قسم کی جاہلانہ باتوں سے کاغذ کوسیاہ نہ کرتا۔10