صدق المسیح

by Other Authors

Page 27 of 64

صدق المسیح — Page 27

رسول اللہ کا وجود ہے اور آخری حصہ میں عیسی بن مریم کا وجود ہوگا اور اُن کے درمیان ٹیڑھے راستے پر چلنے والے لوگ ہوں گے جنکا تجھ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ تیرا اُن سے کوئی سروکار ہوگا۔حضرت ابو جعفر بن محمد سے روایت ہے: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ تَهْلِكُ أُمَّةٌ أَنَا اَوَّلُهَا وَ إِثْنَا عَشَرَ مِنْ بَعْدِي مِن السُعَدَاءِ أَوْلِي الْأَلْبَابِ وَالْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ اخِرُهَا۔(اکمال الدین صفحه: ۱۵۷) حضرت رسول اکرم نے فرمایا وہ اُمت کیسے ہلاک ہو سکتی ہے جس کے شروع میں میں ہوں اور میرے بعد ۱۲ نیک اور عقل مند لوگ ہونگے اور آخر 66 میں مسیح ابن مریم ہو نگے۔“ قرآن مجید کی سورۃ جمعہ اور مذکورہ بالا احادیث سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ آنحضرت کی دوسری بعثت امام مہدی علیہ السلام کے روپ میں آخری زمانہ میں ہوگی یہ آخری زمانہ کب ہوگا اس بارہ میں مشہور صحابی رسول حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَليهِ وَسَلَّمَ الْآيَاتُ بَعْدَ الْمِأْتَيْنِ۔(ابن ماجہ کتاب الفتن ) حضرت رسول خدا نے فرمایا فتنوں کے ظہور کی علامات دوسوسال بعد رونما ہوں گی۔نامور محدث حضرت امام علی قاری رحمتہ علیہ متونی ۰۱۴اھ اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں: وَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُوْنَ اللَّامُ فِي المِاتَيْنِ لِلْعَهْدِي بَعْدَ الْمَأْتَيْنِ بَعْدَ الْأَلْفِ (مرقاۃ شرح مشکوۃ) وَهُوَ وَقتُ ظُهُورِ المهدِي۔یہ بھی ممکن ہے کہ الماً تین میں لام عہد کا ہو ، اور مُراد یہ ہو کہ ہزار سال کے بعد ۲۰۰ سو -------۔27 COOOOOOOOOOO