صدق المسیح

by Other Authors

Page 19 of 64

صدق المسیح — Page 19

یعنی حضرت موسیٰ نے خضر سے کہا کہ میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں تا کہ آپ مجھے اُس علم میں سے کچھ پڑھا ئیں جو آپ کو دیا گیا ہے۔اس حدیث کی شرح میں علامہ نو دی فرماتے ہیں: اسْتَدَلَّ الْعُلَمَاءُ بِسُؤْلِ مُوسَى السَّبِيْلِ إِلَى لِقَاءِ الْخِضَرِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمْ عَلَى اسْتِحْبَابِ الرَّحْلَةِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ وَاسْتِعْبَابِ الْاسْتَكْثَارِ مِنْهُ وَإِنَّهُ يَسْتَحِبُّ لِلْعَالَمِ وَإِنْ كَانَ مِنَ الْعِلْمِ بِمَحَلَّ عَظِيمٍ اَنْ يَّاخُذَهُ مِمَّنْ هَوَ اَعْلَمُ مِنْهُ وَيَسْعَى إِلَيْهِ فِي تَحْصِيلِهِ وَفِيْهِ فَضِيْلَةُ طَلَبِ الْعِلْمِ ( حاشیہ القودی علی مسلم جلد ۲ صفحه ۲۷۰) یعنی موسیٰ کے خضر کی ملاقات کی درخواست کرنے سے علماء نے اسبات کی دلیل لی ہے کہ طلب علم کے لئے سفر کرنا اور حصول علم کے لئے بار بار درخواست کرنا جائز ہے۔نیز یہ کہ اگر چہ کوئی خود کتنا ہی بڑا صاحب علم کیوں نہ ہو پھر بھی اُس کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے سے زیادہ علم رکھنے والے سے علم حاصل کرے اور حصول علم کی غرض سے کوشش کر کے اسکے پاس جائے نیز اس سے علم کے سیکھنے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔تفسیر بیضاوی میں ہے: وَلَا يُنَافِي نُبُوَّتَهُ وَكَوْنَهُ صَاحِبَ شَرِيعَةٍ أَنْ يَتَعَلَّمَ مِنْ غَيْرِهِ مَالَمْ يَكُنْ شَرْطًا فِي ابواب الدِّيْنِ ( بیضاوی زیر آیت هَلْ أَتَّبِعْكَ صفحه : ۲۸۶ مطبع احمدی و صفحه : ۳۵۸ مطبع مجتبائی ۱۳۲۶ھ ) یعنی حضرت موسیٰ کا کسی غیر سے ایسا علم سیکھنا جو امور دین میں سے نہ ہو اُن کی نبوت اور اُن کے صاحب شریعت ہونے کے منافی نہیں ہے۔یعنی نہ صرف نبی بلکہ صاحب شریعت نبی بھی دوسرے علوم میں دوسروں کا شاگرد ہو 19