صدق المسیح

by Other Authors

Page 17 of 64

صدق المسیح — Page 17

-- اور اس پر عمل کرنے والے تھے اور وہ اسکی تفسیر بھی پڑھتے تھے اور ، اور علوم بھی سیکھتے تھے ایسے سکولوں میں جو خاص ان کے لئے اور ان کے بیٹوں کے لئے بنائے جاتے ہیں پس یہ جائز نہیں کہ ان میں سے کسی کا آنحضرت کے مقابل ذکر کیا جائے۔اسمیں سید رشید رضاء نے علی الاعلان کہا ہے کہ دوسرے انبیاء تو سکولوں میں علم سیکھتے رہے مگر آنحضرت نے کبھی کسی سکول میں کوئی علم نہیں سیکھا۔تفسیر جامع البیان میں آیت كَذَالِکَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُوَادَكَ۔(الفرقان ۳۶۳۲) کے ماتحت لکھا ہے: إِنَّكَ أُمِّي بِخِلَافِ سَائِرِ الْأَنْبِيَاءِ فَإِنَّهُمْ مُتَمَكِّنُوْنَ مِنَ القِرَاةَ وَالْكِتَابَةِ۔کہ اے محمد تو امی ہے بخلاف دیگر تمام انبیاء کے کہ وہ پڑھنا اور لکھنا بھی جانتے تھے۔ية تفسير جامع البیان شیخ الاسلام الستيد معین بن صفی کی لکھی ہے تفسیر قادری میں لکھا ہے: رسول ایسا چاہیئے کہ جن کی طرف بھیجا گیا ہے۔ان سے اصول وفروع دین کا عالم زیادہ ہو جو ان کی طرف لایا ہے اور جو علم اس قبیل سے نہیں اسکی تعلیم امور نبوت کے منافی نہیں اور انتُمْ أَعْلَمُ بِأَمُوْرِ دُنْيَا كُمْ اسکا موید ہے۔تفسیر حسینی قادری اردو جلد اصفحه : ۶۳۸) حضرت موسیٰ پر تو رات اکٹھی کیوں اتری؟ اسکے جواب میں علامہ ابن فورک کے قول کے مطابق بعض علماء یہ کہتے ہیں: لِاَنَّهَا نَزَلَتْ عَلَى نَبِيِّ يَكْتُبُ وَيَقْرَأ وَهُوَ مُوْسَى (الاتقان جزء اصفحه ۴۱) کہ وہ ایک ایسے نبی پر اتری تھی جو لکھنا اور پڑھنا جانتا تھا یعنی موسیٰ علیہ السلام پر پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خود خدا تعالیٰ کے ایک بندے سے کہا: هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا (الكهف آیت: ۶۶) کیا میں تیری پیروی کر سکتا ہوں اس شرط پر کہ تو مجھے وہ رشد و ہدایت سکھائے جو تجھے 17