صدق المسیح — Page 35
معه نوح (سورة مريم (۵۸) جلد ۲ صفحه ۹۳ مصری۔مذکورہ بالا وہ کتب احادیث کے حوالہ جات میں جن میں اللہ کے پیارے اور بچے اور ابوالانبیاء حضرت ابراہیم خلیل اللہ پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا گیا ہے اور ایک طرف تو الزام لگاتے ہیں اور دوسری طرف سچا نبی بھی تسلیم کرتے ہیں۔قارئین کرام ! هَذَا خَلِيفَةُ اللَّهِ الْمَهْدِینی بغیر کسی شک کے حدیث ہے اور صحیح حدیث ہے اور صحاح ستہ ہی کی ایک کتاب سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب خروج المھدی میں موجود ہے اور اسکے بارے میں حاکم نے مستدرک میں فرمایا ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح ہے جسکی تفصیل گزشتہ اوراق میں آئی ہے۔آسمان سے آواز آنے سے مُراد یہ ہے کہ قرآن مجید اور احادیث میں مذکور پیشگوئیوں کے مطابق چاند گرہن سورج گرہن اور دوسرے متعدد آسمانی نشانات ظاہر ہوئے گویا وہ صداقت مسیح و مہدی کے بارے میں آواز دے رہے تھے۔اور اعلان کر رہے تھے۔چنانچہ حضرت شاہ رفیع الدین صاحب رحمتہ اللہ تعالیٰ قیامت نامہ کے ترجمہ میں لکھتے ہیں: بیعت کے وقت آسمان سے ان الفاظ میں آواز آئیگی کہ یہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہے اسکی بات غور سے سنو اور اسکی اطاعت کرو اور یہ آواز اس جگہ کے تمام خاص و عام سنیں گے۔( ترجمه قیامت نامه صفحه : ۴) حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: وقت تھا وقت مسیحانہ کسی اور کا میں نه آتا تو کوئی اور وقت ہی آیا ہوتا اسْمَعُوا صوت السَّمَاء جاء المسيح جَاءَ المسيح نیز پشتو از زمیں آمد امام کامگار 35 ( حضرت مسیح موعود )