صدق المسیح

by Other Authors

Page 23 of 64

صدق المسیح — Page 23

اور میری زبان بنی سعد کی زبان ہے۔“ (سیرة النبی مؤلف علامہ شبلی نعمانی جلد دوم صفحہ ۱۱) اب جہاں تک آنحضرت کے قرآن مجید اور اُسکے علوم و معارف سیکھنے کا سوال ہے اُسکے بارے میں فرمان الہی ہے ”علمه شدید القوی“ (النجم ) اسے مضبوط طاقتوں والے نے سکھایا ہے اب کجاوہ زبان جو آپ نے بنی سعد میں رہ کر سیکھی اور کجا قرآن مجید کی زبان جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھلائی اور تمام دنیا کو چیلنج دیا اور اگر تم اسبارے میں شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندہ پر اتارا ہے تو فاتوا بسورة من مثله (البقرہ) تو اس جیسی کوئی سورت تولا کے دکھاؤ زمانہ اسکی نظیر لانے سے قاصر رہا۔اور قیامت تک رہیگا۔اسی طرح جو علوم حضرت بانی جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے سکھلائے وہ کوئی انسان آپ کو سکھلا ہی نہیں سکتا تھا اور اسی وجہ سے آپ نے تحریر فرمایا کہ کوئی ثابت نہیں کرسکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے اور اسی بناء پر آپ نے ساری دُنیا کے علماء کو چیلنج دیا۔اگر قرآن کے نکات اور معارف بیان کرنے میں کوئی میرا ہم پلہ ٹھہر 66 سکے تو میں جھوٹا ہوں۔“ (اربعین) استاذ بزرگ کو نوکر لکھنے سے مُراد ملازم ہے جیسے آئے دن اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ذریعہ حکومت کی طرف سے تعلیم یافتہ طلباء کے لئے نوکریوں کے اعلانات نکلتے ہیں اور اسی طرح فیروز اللغات میں نوکر کے معنی ملازم کے ہیں۔نیز محترم مفتی موصوف سے گزارش ہے کہ وہ اتنا بڑا ادارہ رحیمیہ کے نام سے چلا رہے ہیں کیا وہ اور اُن کے ہمنو ا ساتھی رحیمیہ میں نوکری کرتے ہیں یا نہیں۔اتنا بڑا نام نہاد مفتی اور لفظ نوکر کی وضاحت چاہتے ہیں۔افسوس افسوس !! 23