صدق المسیح — Page 12
فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيْسَى وَأَصْحَابُهُ فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِم النَّغْفُ فِي رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُوْنَ فَرْسَ كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ۔(مسلم جلد ۲ کتاب الفتن صفحه ۲۷۷ مصری باب ذکر صفت دجال و ما معه ومسلم شرح نو دی جلد ۲ صفحه ۴۰۲،۴۰۱) یعنی پس خدا کا نبی مسیح موعود اور اُس کے صحابی متوجہ ہونگے اور خدا تعالیٰ اُن کے مخالفوں کی گردنوں میں ایک پھوڑا ( طاعون) ظاہر کریگا۔پس وہ صبح کو ایک ایک آدمی کی موت کی طرح ہو جائیں گے۔( نغف کے معنی پھوڑا اور طاعون ہے۔) ( دیکھو عربی ڈکشنری مصنفہ Lane جلد ۸ صفحه ۲۸۱۸ ضمیمه صفحه: ۳۰۳۶) بحار الانوار میں لکھا ہے: قُدَّامَ الْقَائِمِ مَوْتَانِ مَوْتُ أَحْمَرُ وَمَوْتُ أُبْيَضُ الْمَوْتُ الْأَحْمَرُ الشَّيفُ الشيْفُ وَالْمَوْتُ الْأَبْيَضُ الطَّاعُونُ۔( بحارالانوار مصنفہ باقر محمد تقی محمد ایران جلد ۳ صفحه ۱۳۰۱،۱۵۶ھ ) که امام مہدی کی علامت میں ہے کہ اس کے سامنے دو قسم کی موتیں ہونگی۔پہلی سرخ موت اور دوسری سفید موت پس سرخ موت تو تلوار ( لڑائی) ہے اور سفید موت طاعون ہے۔مندرجہ بالا جواب جو ہم نے قرآن کریم کی آیت النمل : ۸۳ کے مطابق دیا ہے اسکی تائید بحارالانوار کے مندرجہ ذیل حوالہ سے بھی ہوتی ہے: تُم قَالَ ( ابوعبد الله امام حسین) وَقَرَءَ تُكَلِّمُهُمْ مِنَ الْكَلِمِ وَهُوَا الْجُرْحُ 66 وَالْمُرَادُ بِهِ الْوَسْمُ۔یعنی امام باقر فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی مندرجہ بالا دابتہ الارض والی آیت کے متعلق حضرت امام حسین نے فرمایا کہ: اس آیت میں تُكَلِّمُهُمْ سے مُراد یہ ہے کہ وہ کیڑا ان کو کاٹے گا اور زخم پہنچائے گا۔( بحارالانوار جلد ۱۳ صفحه ۲۳۲، اقتراب الساعۃ صفحه ۱۹۷) 12