شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 54 of 297

شہدائے احمدیت — Page 54

خطبات طاہر بابت شہداء 49 49 خطبہ جمعہ کے رمئی ۱۹۹۹ء رہے کہ ان کو کھانے میں سوائے نمک اور خشک روٹی کے کچھ نہیں ملتا تھا اور اس کی وجہ سے جیل میں ہی انہوں نے تکلیفیں اٹھا اٹھا کر جب نظام نے جواب دیا، انتڑیاں گل گئیں تو اسی حالت میں وفات پائی۔تو بلاشبہ ان کا نام عظیم شہداء میں داخل ہے اور ان کی شہادت اس پہلو سے زیادہ درد ناک ہے کہ نو ماہ تک مسلسل تکلیفیں اٹھاتے ہوئے انہوں نے جان دی ہے۔حضرت سید سلطان احمد صاحب اور حضرت سید حکیم صاحب ایک اور کابل کے شہید ہیں ان کا بھی یہی حال ہے۔ان کو بھی نمک اور خشک روٹی پر رکھا گیا تھا جس طرح ان شہداء کو بھی اور اسی طرح رفتہ رفتہ انتڑیاں گل گئیں، زخم پیدا ہو گئے سارے نظام میں اور اس حالت میں انہوں نے جان دی ہے۔یہ واقعہ ۱۹۱۸ ء کا ہے۔حضرت سید سلطان احمد صاحب شہید اور ان کے بھائی حضرت سید حکیم صاحب کا ذکر ہے۔شہادت ۱۹۱۸ء میں ہوئی۔علاقہ حاجی کے حاکم سردار محمد خان کے حکم سے ایک بڑے عالم یعنی سید سلطان صاحب جو بڑے عالم دین تھے اور ان کے بھائی سید حکیم صاحب کو گرفتار کر کے قید خانہ میں ڈال دیا گیا۔یہاں خشک نمک اور نان کے سوا کوئی کھانا نہیں ملتا تھا۔مسلسل یہ کھانا کھانے کے نتیجہ میں دونوں کی انتڑیاں بالکل گل گئیں اور اسی دردناک حالت میں شہید ہوئے۔حاجی میراں بخش صاحب اور ان کی اہلیہ اب تاریخ کے اعتبار سے مختلف ملکوں کا جگہ جگہ ذکر چلے گا۔مگر میں نے تاریخ وار چونکہ مرتب کیا ہے اس لئے اب میں انبالہ کے حاجی میراں بخش صاحب اور ان کی اہلیہ کی شہادت کا ذکر کرتا ہوں یوم شہادت ۱۴/۱۳ اگست ۱۹۴۰ء ۱۴/۱۳ /اگست کی درمیانی شب کو گیارہ بجے حضرت حاجی میراں بخش صاحب اور ان کی اہلیہ صاحبہ کو ان کے اپنے مکان میں شہید کر دیا گیا۔حاجی میراں بخش قریشی محلہ خلوت انبالہ شہر کے رہنے والے تھے۔چرم فروشی کرتے تھے۔حاجی صاحب نے ۱۹۰۴ء میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔نہایت سرگرم داعی الی اللہ تھے۔ان پر اللہ تعالیٰ نے احمدیت کی بدولت فضل بھی بہت کئے تھے اور بہت کا روبار چلا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کا جو کاروبار کا پھلنا اور پھیلنا یہ بھی احمدیت ہی کی برکت سے تھا۔اس وجہ سے بہت مشہور ہو گئے تھے اور ملانوں کو یہ بہت تکلیف تھی کہ احمدی ہو کر اتنی اس کو برکت ملی ہے، اتنا مال و دولت اس کے ہاتھ آ رہا ہے۔