شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 25 of 297

شہدائے احمدیت — Page 25

خطبات طاہر بابت شہداء فرمایا: 25 25 خطبه جمعه ۲۳ راپریل ۱۹۹۹ء اب ظالم کا پاداش باقی ہے۔اِنَّهُ مَنْ يَّأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيى (٢٥:٣) افسوس کہ یہ امیر زیر آیت وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا ( النساء:۹۴) داخل ہو گیا اور ایک ذرہ خدا تعالیٰ کا خوف نہ کیا اور مومن بھی ایسا مومن کہ اگر کابل کی تمام سرزمین میں اس کی نظیر تلاش کی جائے تو تلاش کر نالا حاصل ہے۔ایسے لوگ اکسیر احمر کے حکم میں ہیں جو صدق دل سے ایمان اور حق کے لئے جان بھی فدا کرتے ہیں اور زن و فرزند کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتے۔اے عبداللطیف تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھایا اور جو لوگ میری جماعت میں میری موت کے بعد رہیں گے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کام کریں گے۔( تذكرة الشهادتين، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۵۸-۶۰) جماعت کی طرف سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روح کو میں کامل یقین سے یہ پیغام دے سکتا ہوں۔اے ہمارے آقا تیرے بعد تیری جماعت انہی رستوں پر چلی ہے اور انشاء اللہ ہمیشہ چلتی رہے گی جو رستے صاحبزادہ عبداللطیف شہید نے ہمارے لئے بنائے تھے۔گو ان سے نسبت کوئی نہیں مگر غلامانہ ہم انہیں راہوں پر چل رہے ہیں۔فرماتے ہیں: اے کابل کی زمین تو گواہ رہ کہ تیرے پر سخت جرم کا ارتکاب کیا گیا۔اے بد قسمت زمین تو خدا کی نظر سے گر گئی کہ تو اس ظلم عظیم کی جگہ ہے“۔(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۰-۷۴ ) جو کچھ کابل میں ہو رہا ہے وہ زمین خدا کی نظر سے گر گئی ہے۔جب مہاجرین مجھ سے کہتے ہیں کہ کابل کے لئے دعا کرو تو میں کہتا ہوں مجھے غریب عاجز کی دعا کیا کام کرے گی۔جو زمین خدا کی نظر سے گر چکی ہے اسے میری دعا کیسے خدا کی نظروں میں دوبارہ بٹھا دے گی۔یہ ناممکن ہے۔یہ تو