شہدائے احمدیت — Page 204
خطبات طاہر بابت شہداء 195 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۹ء فوٹو گرافر تھے۔قرآن کریم سے بہت محبت رکھتے تھے۔بہت ملنسار، ہمیشہ جماعت کی خدمات پر کمر بستہ۔ایک لمبے عرصہ تک جماعت کی امارت آپ کے سپر درہی۔حیدرآباد میں آپ جماعت کی روح رواں تھے۔ایک نڈر داعی الی اللہ تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی بھی تھے۔واقعہ شہادت : ۹/ جولائی ۱۹۸۶ء بروز بدھ ایک بجے دو پہر اپنے شوروم میں کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک درندہ صفت ملاں آپ کی دکان میں داخل ہوا اور اس نے آپ پر چھری سے پے در پے وار کر کے آپ کو شہید کر دیا۔آپ کے ہاتھوں کے نشانات سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ آپ نے آخری وقت تک حملہ آور کا مقابلہ کیا۔اس وقت آپ کا صرف ایک ملازم دکان پر موجود تھا مگر ڈارک روم (Dark Room) میں تصویریں بنا رہا تھا۔وہ جب کام سے فارغ ہو کر باہر نکلا تو اس نے شور مچایا۔لوگ جمع ہو گئے ، فون کئے گئے اور آپ کو اسی وقت ہسپتال لے جایا گیا لیکن راستہ میں آپ اللہ کو پیارے ہو گئے۔اللہ کو پیارے تو پہلے ہی تھے مگر راستہ ہی میں وفات پاگئے ـ انــا لـلـه وانــا الـيـه راجعون۔آپ کی تدفین ربوہ میں عمل میں آئی۔پسماندگان : مکرم ذوالفقار احمد صاحب قریشی گزشتہ چالیس سال سے یہان لندن میں مقیم ہیں۔آگے ان کے بچوں کی بھی شادیاں ہو چکی ہیں۔مکرمہ مبارکہ بیگم صاحبہ اہلیہ قریشی محمد افضل صاحب کراچی میں ہیں۔مکرمہ صدیقہ بیگم صاحبہ اہلیہ حکیم عبد الباسط صدیقی صاحب حیدرآباد میں ہیں۔مکرمہ صادقہ بیگم صاحبہ اہلیہ مرزا الطاف احمد صاحب واہ کینٹ میں ہیں۔مکرمہ بشری احمد صاحبہ اہلیہ مکرم وحید احمد صاحب بھی شادی شدہ ہیں اور جرمنی میں ہیں اور اپنے حلقہ کی لجنہ کی صدر ہیں۔مکرمہ صابرہ بیگم صاحبہ اہلیہ ظہور الحسن صاحب مرحوم بھی اپنے بچوں کے ساتھ جرمنی میں آباد ہیں۔بابو صاحب کے سب بچے خدا کے فضل ہے دینی اور دنیوی نعمتوں سے متمتع ہیں۔غلام ظہیر احمد صاحب سوہاوہ غلام ظہیر احمد صاحب، سوہاوہ ضلع جہلم۔آپ سوہا وہ ضلع جہلم کے رہنے والے تھے اور مکرم شیخ بشیر احمد صاحب کے صاحبزادے تھے۔واقعہ شہادت : ۲۵ فروری ۱۹۸۷ء کی رات کو آپ بجلی درست کروانے جارہے تھے کہ احمدیت کی مخالفت کے باعث بعض نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔انا للہ وانا اليه