شہدائے احمدیت — Page 196
خطبات طاہر بابت شہدا 187 خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۹۹ء کی نگرانی بھی آپ کے ذمہ ہے۔شادی شدہ ہیں۔دوسرے بیٹے چودھری ناصر احمد صاحب نے اپنے والد صاحب کی شہادت سے پہلے ہی کا روبار سنبھال لیا تھا مگر زندگی نے وفا نہ کی اور جنوری ۱۹۹۴ء میں وفات پاگئے۔تیسرے بیٹے چودھری اعجاز احمد صاحب شادی شدہ ہیں اور بھر یا روڈ میں ہی ایک میڈیکل سٹور چلا رہے ہیں۔جماعتی خدمات کے لحاظ سے آج کل ناظم انصار اللہ علاقہ کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔چوتھے بیٹے ڈاکٹر طاہر احمد صاحب لیاقت میڈیکل کالج سے MBBS کرنے کے بعد آج کل نوابشاہ ہسپتال میں کام کر رہے ہیں اور ناظم اصلاح وارشاد علاقہ ہیں۔پانچویں بیٹے طارق احمد صاحب نے B۔SC تک تعلیم حاصل کی اور اب چھوٹی سطح پر کنسٹرکشن (Construction) کا کام کر رہے ہیں۔آپ کی بیٹیوں میں سے ساجدہ صاحبہ کی شادی مکرم عبدالواسع صاحب سے ہوئی جو آج کل جرمنی میں مقیم ہیں اور دوسری صاحبزادی کی شادی مکرم محمد منور صاحب ابن چودھری عبدالحمید صاحب شہید آف محراب پور سے ہوئی۔یہ محراب پور میں ہی رہائش پذیر ہیں۔مکرم ڈاکٹر عقیل بن عبد القادر صاحب حیدرآباد شہادت ڈاکٹر عقیل بن عبد القادر صاحب شہید ، حیدرآباد۔تاریخ شہادت ۱۹ جون ۱۹۸۵ء۔آپ حضرت مولانا عبد الماجد صاحب بھاگلپوری کے پوتے اور پروفیسر سید عبدالقادر صاحب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے تھے۔آپ کے والد کو ۱۹۰۲ء میں پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریری بیعت کرنے اور پھر ۱۹۰۳ء میں قادیان آکر دستی بیعت کرنے کی توفیق ملی۔مکرم ڈاکٹر عقیل بن عبد القادر صاحب ۲۱ اکتوبر ۱۹۲۱ء کو پیدا ہوئے۔کلکتہ سے میٹرک کرنے کے بعد ۱۹۴۶ء میں پٹنہ میڈیکل کالج سے ڈاکٹری پاس کی اور پاکستان آرمی میں بحیثیت میجر ملازمت اختیار کر لی۔پھر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے آنکھوں کے معالج کی حیثیت سے کام شروع کیا اور بطور معالج اتنی شہرت پائی کہ دور دور سے آنے والے بگڑے ہوئے مریض آپ کے ہاتھ سے شفا پا جاتے۔ہیں سال لیاقت میڈیکل کالج میں بطور پروفیسر تدریس کے فرائض سرانجام دیئے۔کچھ عرصہ فضل عمر ہسپتال میں بھی کام کیا۔غرباء کا مفت علاج کرتے تھے۔قرآن کریم سے عشق تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے مطالعہ کا بہت شغف تھا۔باوجود مخالفت کے بے دھڑک تبلیغ کرتے۔شہادت کے وقت آپ اپنے حلقہ کے صدر جماعت تھے۔