شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 155 of 297

شہدائے احمدیت — Page 155

خطبات طاہر بابت شہداء 147 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جون ۱۹۹۹ء مکرم غلام قادر صاحب اور چودھری عنایت اللہ صاحب گوجرانوالہ شہادت غلام قادر صاحب ابن روشن دین صاحب اور چودھری عنایت اللہ صاحب ابن فضل دین صاحب گوجرانوالہ تاریخ شہادت ۲ جون ۱۹۷۴ء۔مکرم غلام قادر صاحب کے والد روشن دین صاحب ضلع گوجرانوالہ میں آباد ہوئے اور اپنے چار بھائیوں میں اکیلے احمدی تھے۔غلام قادر صاحب کی شادی تر گڑی ضلع گوجرانوالہ میں ہوئی۔آپ کی بیوی ایک جان لیوا بیماری کے باعث۔آپ کی زندگی میں ہی فوت ہوگئی تھیں۔آپ کنگنی والا ضلع گوجر انوالہ میں مقیم تھے۔واقعہ شہادت: آپ کے بیٹے خالد محمود کا بیان ہے کہ ایک دن جلوس آیا مگر والد صاحب گھر پر موجود نہ تھے اور جلوس کو لوگوں نے واپس لٹا دیا۔جب آپ کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو آپ تھا نہ گئے اور پولیس کو مطلع کیا۔چنانچہ آپ کے ساتھ تھانے دار آیا۔اس نے گاؤں میں ایک قصاب کو ڈانٹا جو کہ بدمعاش اور مخالف احمدیت تھا اور یقین دلا کر چلا گیا کہ آپ کو اب کوئی کچھ نہیں کہے گا اور ایک حوالدار کی ڈیوٹی لگائی کہ ان کے گھروں کی حفاظت کرنا۔اس نے بھی اپنی طرف سے تسلی دی اور کہا آپ گھبرائیں نہیں رات کو پولیس کے آدمی سول کپڑوں میں آجائیں گے اور آپ کی حفاظت کریں گے مگر رات بھر کوئی نہ آیا۔اسی رات خریدے گئے پیشہ ور قاتلوں کا ایک گروہ دو احمد یوں کو کسی اور جگہ شہید کر کے پہلے چودھری عنایت اللہ صاحب کے پاس آیا اور ان کو پکڑ کر ساتھ لے گیا اور انہیں پوچھا کہ وہ جو تھا نے روز جاتا ہے اس کا گھر کون سا ہے؟ چنانچہ وہ ساتھ ہو لئے اور غلام قادر شہید کے دروازے کی نشاندہی کی اور قاتلوں کے کہنے پر ان کا دروازہ کھٹکھٹایا۔یہ سحری کا وقت تھا۔غلام قادر صاحب نے پوچھا کون ہے۔تو انہوں نے بتایا میں عنایت اللہ ہوں۔چنانچہ آپ نے بلا تردد دروازہ کھول دیا۔جو نہی آپ باہر آئے تو قاتلوں نے آپ کو گھیر لیا اور مجبور کر کے دونوں یعنی غلام قادر صاحب اور عنایت اللہ صاحب کو گاؤں سے باہر لے گئے اور باہر کھیتوں میں شہید کر ڈالا۔انـــالــلــه وانا اليه راجعون غلام قادر صاحب شہید نے پسماندگان میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑیں۔ان کے ایک بیٹے گوجرانوالہ میں ہوتے ہیں جبکہ باقی ساری اولا در بوہ میں مقیم ہے۔مکرم عنایت اللہ صاحب شہید قادیان کے نزدیک گاؤں ” کھارا‘ کے رہنے والے تھے۔