شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 136 of 297

شہدائے احمدیت — Page 136

خطبات طاہر بابت شہداء 128 خطبہ جمعہ ا ا / جون ۹۹ ١٩٩٩ء شدید پتھراؤ کیا۔مخالفین نے جلسہ گاہ کی بجلی کی تاریں کاٹ دیں جس سے سارے علاقے میں اندھیرا چھا گیا۔لوگ ادھر ادھر بکھر گئے۔محترم سید سہیل احمد صاحب اور بعض دوسرے احمدیوں نے کرسیاں سر پر رکھ کر اپنی حفاظت کی۔مخالفین کے ہلہ بولنے کے بہت دیر بعد پولیس جب وقوعہ پر پہنچی تو وہ اس طوفانی بارش کے بعد نظر آئی جو خدا تعالیٰ نے اس موقع پر معجزانہ طور پر نازل فرمائی تھی اور جس سے خود دشمن ہی تتر بتر ہو چکا تھا۔دشمن کے اس حملہ کے نتیجہ میں بہت سے احمدیت احباب زخمی ہوئے جنہیں رات کے وقت برہمن بڑ یہ ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔ان میں سے دو دوست مکرم عثمان غنی صاحب اور مکرم عبدالرحیم صاحب کی حالت بہت نازک تھی اور وہ شدید زخموں سے جانبر نہ ہو سکے اور اگلے روز ۴ نومبر ۱۹۶۳ء کی صبح کو دونوں اپنے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے اور شہادت کا رتبہ پایا۔اناللہ وانا اليه راجعون۔شہید عثمان غنی صاحب شاہ طور یہ ضلع ما تک گنج کے رہنے والے تھے اور اپنے خاندان میں پہلے احمدی تھے۔نہایت مخلص ، خاموش طبع ، خدمت گزار اور نرم خوشخصیت کے حامل تھے احمدی ہونے کے بعد فوج میں بھرتی ہو کر کراچی چلے گئے تھے۔ریٹائرمنٹ کے بعد موصوف سلسلہ کی خدمت میں ہمہ تن مصروف رہے۔شہادت کے وقت آپ کی عمر ۳۵ برس تھی اور آپ غیر شادی شدہ تھے۔آپ کی تبلیغ سے آپ کے چھوٹے بھائی جناب ڈاکٹر اولاد حسین صاحب اور آپ کی ہمشیرہ احمدی ہوئیں۔شہید عبدالرحیم صاحب برہمن بڑیہ ضلع تارواں گاؤں کے رہنے والے تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر تقریباً ۴۷ سال تھی۔خاموش طبع اور عبادت گزار تھے۔آپ بھی ریٹا ئر فوجی تھے۔شہادت کے وقت ان کے دو بچے اور تین بچیاں تھیں جو سب سلسلہ سے اخلاص کا تعلق رکھتے ہیں۔بڑے بیٹے مکرم مسلم صاحب سرکاری ملازم ہیں اور چھوٹے بیٹے مکرم رستم صاحب آج کل تنجیم میں مقیم ہیں۔اب میں از سر نو وقف اور خدمت کے دوران اپنے وطنوں سے دور حادثانی یا طبعی وفات پانے والے شہداء کا تذکرہ کرتا ہوں۔مکرم عبدالرحمن صاحب سماٹری سب سے پہلے مکرم عبد الرحمن صاحب سماٹری۔آپ سماٹرا انڈونیشیا سے ۱۹۳۸ء کے شروع میں قادیان دینی تعلیم کے حصول کے لئے تشریف لائے۔آپ سے قبل آپ کے دو بڑے بھائی