شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 105 of 297

شہدائے احمدیت — Page 105

خطبات طاہر بابت شہداء 96 96 خطبہ جمعہ ۲۸ رمئی ۱۹۹۹ء اور وفات تک آپ اسی حیثیت سے یعنی نائب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔آپ ایک مرکزی حکم کے تحت قرآن کریم کی طباعت کے سلسلے میں ۱۳/ مارچ ۱۹۷۹ء کو ہانگ کانگ جانے کے لئے روانہ ہوئے۔مرکز کے دیئے ہوئے پروگرام کے مطابق ۱۵؍ مارچ کو رنگون پہنچے جہاں پر قیام کا آپ کو مرکز سے ہی پروگرام دیا گیا تھا۔چار روز تک وہاں تنظیمی امور طے کرنے کے بعد ۱۹؍ مارچ کو رنگون سے مانڈلے کے لئے بعض تنظیمی عہد یداروں کے ہمراہ روانہ ہوئے۔مانڈ لے رنگون سے ۴۵۰ کلومیٹر پر ہے۔۲۰ / مارچ ۱۹۷۹ء کو علی اصبح مانڈ لے پہنچے۔اسی روز اپنے مفوضہ امور نمٹانے کے بعد رات کو واپس آرہے تھے کہ رستے میں آپ کی کار کو حادثہ پیش آگیا جس سے آپ کے سر پر چوٹ آئی اور بیہوشی طاری ہو گئی۔ہر قسم کی امداد دینے کے باوجود آپ جانبر نہ ہو سکے اور بالآخر ۲۲ / مارچ کو اپنے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔انـــالــــه وانــا اليــه راجعون۔آپ کا جنازہ ۶ را پریل ۱۹۷۹ء کو ربوہ لایا گیا۔اسی روز احاطہ بہشتی مقبرہ میں حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے نماز عصر کے بعد نماز جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔مرحوم نے بیوہ کے علاوہ دو بیٹے اور ایک بیٹی یادگار چھوڑے۔ایک بیٹا طارق حیدر ٹورانٹو کینیڈا میں ہے اور دوسرا بیٹا محمد لطیف قیصر لاہور میں چارٹر ڈا کا ؤنٹینسی کر رہا ہے اور بیٹی سعد یہ جھنگ میں اردو کی لیکچرار ہیں۔مگرم ملک عبد الحفیظ صاحب مبلغ منجی ایک اور شہید جن کا میں ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ملک عبدالحفیظ صاحب مبلغ نبی تھے۔محترم ملک عبدالحفیظ صاحب مرحوم سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشہور صحابی حضرت نظام الدین صاحب کے پوتے اور مکرم کریم بخش صاحب آف بہاولپور کے صاحبزادے اور محترم مولانا محمد اسمعیل صاحب دیا لگڑھی کے داماد تھے۔محترم ملک عبدالحفیظ صاحب حافظ قرآن تھے۔حافظ صاحب مرحوم نے جامعہ احمدیہ میں شاہد کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ۱۹۷۴ء میں میدان عمل میں قدم رکھا اور سب سے پہلے تخت ہزارہ ضلع سرگودھا میں بطور مربی سلسلہ تعینات ہوئے۔اس کے بعد رحیم یار خان اور مردان میں بھی بطور مربی سلسلہ مقیم رہے اور بوقت شہادت تقریباً ڈیڑھ سال سے بھی