شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 254 of 297

شہدائے احمدیت — Page 254

ضمیمہ 238 شہداء بعد از خطبات شہداء مولا نا عبدالرحیم صاحب کے سر پر ایک ڈنڈے کا وار کیا گیا جس سے آپ بے ہوش ہو گئے۔امام مسجد کے بیٹے نے بھی آپ پر کئی وار کئے اور دوسرے احمدیوں پر بھی تشدد کیا گیا۔ایک احمدی باہر بھاگنے میں کامیاب ہو گیا اور پولیس کو اطلاع دی۔چنانچہ پولیس کے ذریعہ تمام احمدیوں کو چھڑالیا گیا۔محترم مولا نا عبدالرحیم صاحب کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں آپ زخموں کی تاب نہ لا کر بھمر ۴۰ سال شہید ہو گئے۔۱۶ / اپریل کو آپ کی نعش قادیان لائی گئی جہاں آپ کی تدفین ہوئی۔مولا نا عبدالرحیم صاحب چھوٹا کدمہ ضلع گنج بہار کے رہنے والے تھے۔آپ نے ۱۹۸۰ء میں اللہ آباد بورڈ سے عربی ادب میں سند فضیلت حاصل کی۔۱۹۸۱ء میں دارالعلوم مئو سے دور حدیث مکمل کیا پھر دارالعلوم دیو بند سے سند فضیلت حاصل کی۔اس کے بعد بطور مدرس صوبہ بنگال میں کام کیا۔۱۹۹۰ء سے ۱۹۹۵ء تک ہیڈ ماسٹر اور شیخ الحدیث کے عہدہ پر فائز رہے اور پھر جماعت اسلامی کے ادارہ اشاعت اسلام مالیر کوٹلہ پنجاب کی جانب سے صوبہ پنجاب ہما چل اور ہریانہ کے انچارج منتخب ہوئے۔۱۹۹۸ء میں پہلی بار قادیان تحقیق کے لئے آئے اور نومبر ۱۹۹۸ء میں قادیان آ کر بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہوئے۔جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۸ء کے موقع پر حضرت خلیفتہ اسیح الرابع نے آپ کا ذکر خیر بھی فرمایا تھا۔بیعت کے بعد زندگی وقف کر دی آپ کو نظارت دعوت الی اللہ کے تحت ہما چل و پنجاب کے تربیتی امور پر لگایا گیا اور دعوت الی اللہ میں بھی سرگرم رہے آپ کے ذریعہ ہزاروں لوگ احمدیت میں داخل ہوئے۔مدرستہ المعلمین قادیان میں بطور مدرس بھی خدمت کی توفیق پائی۔آپ ادب عربی بالخصوص حدیث پر عبور رکھتے تھے۔منکسر المزاج، ملنسار، کم گو، صابر وشاکر ، ہنس مکھ طبیعت کے مالک تھے۔بیعت کے بعد آپ کے اہل وعیال نے آپ سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔آپ بہت بعد میں آ کر بہت آگے نکل گئے۔اللہ تعالیٰ غریق رحمت کرے۔آمین۔مکرم چوہدری عبد اللطیف صاحب اٹھوال۔بہوڑ و چک ( تاریخ شہادت ۸/ جون ۲۰۰۰ء ) مورخہ ۸/ جون ۲۰۰۰ ء بروز جمعرات بہوڑ و چک نمبر ۸ ضلع شیخو پورہ کے ایک مخلص احمدی دوست مکرم چوہدری عبداللطیف صاحب اٹھوال مخالفین کی فائرنگ سے ۷۰ سال کی عمر میں شہید