شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 216 of 297

شہدائے احمدیت — Page 216

خطبات طاہر بابت شہداء 205 پروفیسر ڈاکٹر نسیم با بر صاحب اسلام آباد خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۹ء شہادت پروفیسر ڈاکٹر نسیم با بر صاحب شہید، اسلام آباد ( پاکستان ) تاریخ شہادت ۱۰ را کتوبر ۱۹۹۴ ء۔پروفیسر ڈاکٹر نسیم بابر شہید ۱۹۵۲ء میں ڈاکٹر سید محمد جی احمدی اور سیدہ امتہ الوحید صاحبہ کے ہاں پیدا ہوئے۔آپ کے دادا حضرت سید محمد شاہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ میں سے تھے۔آپ یعنی پروفیسر ڈاکٹر نسیم صاحب بچپن سے ہی غیر معمولی ذہین تھے اور خدا کے فضل سے مڈل سے لے کر پی۔ایچ۔ڈی تک مسلسل تعلیمی وظائف حاصل کرتے رہے۔پی۔ایچ۔ڈی کے لئے وارسا ٹیکنیکل یونیورسٹی پولینڈ میں داخل ہوئے اور ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد ۱۹۸۰ء میں واپس آئے۔پولینڈ میں قیام کے دوران آپ نے محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب مرحوم کے ادارے انٹر نیشنل سنٹر فار تھیوریٹیکل فزکس سے رابطہ رکھا اور ان کے مختصر کورسز میں داخلہ لیا۔اسی دوران سویڈن ، جرمنی اور اٹلی کی کئی اور اہم یونیورسٹیوں سے بھی آپ کا رابطہ ہو گیا۔چنانچہ آپ تقریباً ہر سال کسی نہ کسی بین الا قوامی یونیورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر کے طور جاتے رہے۔ٹیکنیکل یونیورسٹی برلن میں تقریباً ایک سال گزار کر اور پھر اس یو نیورسٹی سے اپنے قریبی روابط کی بنا پر Defects in Semi-Conductor Materials اور High Temperature Super Conductivity کے میدان میں ایسی اعلیٰ اور قابل قدر ریسرچ کی کہ برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی نے قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس میں آپ کی نگرانی میں Semi-conductor Materials پر مزید تحقیق کے لئے ایک شعبہ کھولنے کی منظوری دے دی۔اس سلسلہ میں تمام انتظامات مکمل تھے اور جرمنی سے اہم سائنسی آلات کی درآمد شروع ہونے والی تھی کہ آپ کی شہادت ہو گئی۔آپ نے F۔Sc سے لے کر M۔Sc تک کا طالب علمی کا زمانہ راولپنڈی میں ایک مستعد متحرک خادم کے طور پر گزارا اور مختلف شعبوں کے ناظم رہے۔واقعہ شہادت : ۱۰ / اکتوبر ۱۹۹۴ ء رات ساڑھے دس بجے آپ نے گھنٹی بجنے پر اپنے گھر کا دروازہ کھولا تو چہرے پر نقاب اوڑھے ہوئے ایک شخص نے گھر کے دروازے کے عین سامنے آپ پر