شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 217 of 297

شہدائے احمدیت — Page 217

خطبات طاہر بابت شہداء 206 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۹ء کلاشنکوف کے دو فائر کئے۔ایک دل پر لگا اور دوسرا گردن پر۔دونوں گولیاں جسم سے پار ہو کر پیچھے دیوار پر لگیں جن سے سخت کنکریٹ کا پلستر بھی اکھڑ گیا۔قاتل فوری طور پر دیوار پھلانگ کر عقبی جنگل میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔اس حادثہ کی عینی شاہد آپ کی اہلیہ مکرم مین باب صاحبہ کے بیان کے مطابق قاتل چھ فٹ قد کا ایک تنومند شخص تھا جس نے شلوار میض پہنی ہوئی تھی ، چہرے پر نقاب تھا جس میں سے صرف آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔اس کے پاس اسلحہ تھا جو اس نے دروازہ کھلنے سے پہلے ہی آپ پر تان رکھا تھا۔اس نے کوئی آواز نہ نکالی نہ بات کی، بس چشم زدن میں فائر کر کے فرار ہو گیا۔آپ کی اہلیہ کے شور مچانے پر ایک ہمسایہ پروفیسر پرویز ہود بھائی دوڑے آئے اور اپنی کار میں ڈاکٹر نیم بابر کو ڈال کر ہسپتال کی طرف روانہ ہوئے لیکن راستہ ہی میں روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔انا لله وانا اليه راجعون۔پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ ایک بیٹی اور دو بیٹے چھوڑے۔تینوں بچے ریما با بر، سقراط بابر اور جبران بابر ابھی زیر تعلیم ہیں اور آج کل اپنی والدہ کے ہمراہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔آپ کی ایک بہن مکرمہ روبینہ ہاشمی صاحبہ یہاں لندن میں رہتی ہیں اور مکرم خاور ہاشمی صاحب کی اہلیہ ہیں۔آپ کی خالہ محترمہ طاہرہ ونڈرمین صاحبہ بھی یو۔کے جماعت کی ایک مخلص اور مستعد خاتون ہیں اور بڑی محنت سے انگلش ڈاک کا کام کر رہی ہیں۔آپ کی شہادت پر جرمنی کے سفیر کے علاوہ قائد اعظم یونیورسٹی کے مختلف پروفیسرز اور دیگر شخصیات نیز ملکی اخبارات ”دی نیوز راولپنڈی ، ہفت روزہ Pulse اسلام آباد دی مسلم اسلام آباد نے ملائیت اور مذہبی تعصب کو جتنا بھی وہ برا بھلا کہہ سکتے تھے، کہا اور آپ کی وفات پر آپ کے پسماندگان سے تعزیت کی۔اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے۔یہ مختصر ذکر ہے اس شہادت کا۔اس کے بعد اگلے خطبہ سے انشاء اللہ باقی شہداء کا ذکر شروع کیا جائے گا۔