شہدائے احمدیت — Page 189
خطبات طاہر بابت شہدا 182 خطبہ جمعہ ۲ ر جولائی ۱۹۹۹ء سے مرہم پٹی کے بعد نوابشاہ ہسپتال لے جاتے ہوئے آپ راستہ میں ہی اپنے مولا کے حضور حاضر ہو گئے۔انا لله وانا اليه راجعون۔قاتل کو لوگوں نے موقع پر ہی پکڑ کر پولیس کے حوالہ کر دیا۔اس نے کہا کہ یہ قادیانی ہے اور میں نے اسی لئے مارا ہے اور جہاد کیا ہے۔بہر حال اس پر مقدمہ چلا اور قریبا تین سال بعد رجب علی ایڈیشنل سیشن جج نے اسے تین سال قید کی سزا سنائی اور ساتھ یہ فیصلہ میں لکھا کہ ملزم ۱۰ را پریل ۱۹۸۴ء سے ۱۳ رمئی ۱۹۸۶ ء تک جیل میں رہا ، قید کا یہ عرصہ اس کی سزا سے منہا ہوگا۔گویا عملاً اسے کوئی بھی سزا نہ دی گئی۔یہ بھی معلوم ہوا کہ شہید مرحوم نے اپنے آخری لمحات میں اپنے بیٹوں اور بڑے بھائی کو وصیت کی کہ قاتل کے خلاف کسی قسم کی کوئی انتقامی کارروائی نہ کی جائے۔کیونکہ میں نے اسے معاف کر دیا ہے اور مجھے اس کی بدولت اعلیٰ وارفع مقام نصیب ہو رہا ہے۔شہید مرحوم بہت شگفتہ مزاج اور ہنس مکھ تھے۔حقوق اللہ کے علاوہ حقوق العباد کا بھی خیال رکھتے تھے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ چودھری صاحب کے قاتل اور اس کے اہل خانہ کی تمام ضروریات ایک عرصہ تک چودھری صاحب مرحوم نے اپنی جیب سے پوری کیں لیکن اس نے علماء سوء کے بہکانے پر اپنے ہی محسن کو شہید کر دیا۔شہید مرحوم نے بیوہ کے علاوہ دو بیٹیاں اور پانچ بیٹے چھوڑے ہیں۔جن کی تفصیل یہ ہے منور احمد محراب پور کے صدر جماعت اور قائد علاقہ سکھر ڈویثرن ہیں۔حافظ محمد ناصر صاحب جرمنی میں مقیم ہیں۔محمد احسن صاحب محراب پور میں رہائش پذیر ہیں۔مظفر حسن صاحب اور محمد اسلم صاحب دونوں بھائی ہالینڈ میں آباد ہیں۔بیٹیاں بشری فضیلت صاحبہ اور سلمی ندرت صاحبہ شادی شدہ ہیں۔اور یہ سارے بچے اپنے گھروں میں خدا تعالیٰ کے فضل سے خیریت سے ہیں اور دینی و دنیاوی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔مکرم قریشی عبدالرحمن صاحب شہید سکھر شہادت قریشی عبدالرحمن صاحب شہید ،سکھر۔تاریخ شہادت یکم رمئی ۱۹۸۴ء۔مکرم قریشی عبدالرحمن صاحب 1911ء میں سیالکوٹ کے ایک گاؤں دولت پور میں حضرت قریشی غلام محی الدین صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاں پیدا ہوئے۔تعلیمی زندگی کا آغاز پسرور سے کیا اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کرنے کے بعد ۱۹۳۲ء میں ریلوے ہائی سکول سکھر میں ایک معلم کی حیثیت